شیر خوار بچوں کے زہریلے دودھ کا بحران عالمی سطح پر پھیل گیا
بچوں کی خوراک کی بین الاقوامی انڈسٹری حالیہ برسوں کے سب سے پیچیدہ غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا کر رہی ہے، جہاں نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان بچوں کے خشک دودھ کی مصنوعات کو بڑے پیمانے پر احتیاطی طور پر واپس منگوایا گیا۔
یہ اقدام سیریولائیڈ ٹاکسن اور بوٹولزم بیکٹیریا سے آلودگی کے خدشات کے بعد اٹھایا گیا، جس نے عالمی ریگولیٹری اداروں اور بڑی کمپنیوں کو الرٹ کر دیا۔
بحران کی شروعات نومبر 2025 میں اس وقت ہوئی جب امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈٰ اے) نے بائی ہارٹ کمپنی کے بچوں کے دودھ سے وابستہ Infant Botulism کے پھیلاؤ کا اعلان کیا۔
تمام امریکی مارکیٹ میں مصنوعات کی کھیپیں واپس منگوائی گئیں، کیونکہ ٹیسٹوں میں استعمال شدہ دودھ کے پاؤڈر میں بوٹولینم بیکٹیریا کی ممکنہ موجودگی سامنے آئی۔
رپورٹس کے مطابق 80 سے زائد مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے گئے اور والدین کو وارننگ جاری کی گئی کہ وہ بچوں کے اندر پٹھوں کی کمزوری، سانس لینے میں دشواری اور دیگر علامات پر نظر رکھیں جو استعمال کے 30 دن بعد بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
یہ بحران صرف امریکی مارکیٹ تک محدود نہیں رہا۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران، سیریولائیڈ ٹاکسن کی موجودگی کے باعث نیسلے، ڈینون اور لیکٹالیس جیسی بڑی کمپنیاں بھی متاثر ہوئیں۔
نیسلے نے 60 سے زیادہ ممالک سے مشہور برانڈز واپس منگوا لیے۔ تحقیقات میں آلودگی کا ممکنہ ذریعہ ایک مشترکہ سپلائر سے حاصل شدہ اراکیڈونک ایسڈ آئل بتایا گیا۔
لیکٹالیس نے 18 ممالک سے اپنی برانڈ کی کھیپیں واپس منگوائیں، جبکہ ڈینون نے ایشیائی مارکیٹ میں مخصوص پروڈکشن لائنز کو بند کر دیا۔
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے 6 جنوری 2026 کو نیسلے کی چند مصنوعات کے بارے میں وارننگ جاری کی۔
اتھارٹی نے واضح کیا کہ یہ واپسی کمپنی کی رضاکارانہ اطلاع پر مبنی احتیاطی اقدام ہے اور اب تک مملکت میں کسی بیماری کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
مصر اور متحدہ عرب امارات میں بھی حکام نے آنے والی کھیپوں کی سخت جانچ پڑتال شروع کر دی ہے اور متاثرہ مصنوعات کی فہرستیں جاری کی گئی ہیں تاکہ مارکیٹ کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران عالمی سپلائی چین میں ایک سنگین خامی کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک مشترکہ سپلائر کے آلودہ جزو کی وجہ سے مختلف براعظموں میں بڑی کمپنیوں کی پروڈکشن لائنز مفلوج ہو سکتی ہیں۔
اس صورتحال نے عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی سطح پر خام مال فراہم کرنے والوں پر سخت نگرانی اور معیاری اقدامات کے مطالبات کو مزید بڑھا دیا ہے۔