روزانہ زیادہ خوش رہنے کے 10 آسان طریقے
زندگی میں خوش رہنا کوئی دور کا خواب نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی عادات کا نتیجہ ہے۔ خوشی اکثر انہی لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں، یا جنہیں ہم معمولی سمجھ بیٹھتے ہیں۔
امیلیا ولسن ایک مصنفہ اور لائف کوچ ہیں، جو اپنی ذاتی تحقیق اور تجربات کی بنیاد پر خوشی اور سکون کے عملی طریقے بیان کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خوشی کا راز بڑے منصوبوں یا دور کی کامیابیوں میں نہیں بلکہ روزانہ کے چھوٹے، آسان اورمعمولاتِ زندگی میں چھپا ہے، جو ہر شخص اپنی زندگی میں شامل کر سکتا ہے۔
امیلیا ولسن نے اپنی رپورٹ میں ایک ”ہیپیئسٹ چیک لسٹ“ بھی تیار کی ہے، جس میں وہ روزانہ کی چند سادہ سرگرمیوں کو بیان کرتی ہیں جو دل کو خوش، جسم کو صحت مند اور دماغ کو پرسکون رکھتی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں وہ اہم نکات کیا ہیں۔
1۔ مناسب نیند
نیند وہ بنیادی سرمایہ ہے جو ہماری توانائی، مزاج اور دماغی صحت کو قائم رکھتی ہے۔ ایک مقررہ وقت پر سونا اور جاگنا، بستر پر جا کر کتاب پڑھنا، اور صبح دھیرے دھیرے جاگنا حیرت انگیز اثر ڈال سکتا ہے۔
2۔ دن کا پرسکون آغاز
دن کا آغاز اگر خاموشی اور خود توجہی سے کیا جائے تو پورا دن بہتر گزر سکتا ہے، لہٰذا چند منٹ کا مراقبہ، شکرگزاری کے خیالات لکھنا، اور اپنی خواہشات یا محسوسات کو ڈائری میں درج کرنا نہ صرف سکون دیتا ہے بلکہ دن کے لیے ذہنی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ اس عمل کے اثرات بڑے جادوئی رزلٹ دیتے ہیں۔ ضرورآزما کر دیکھیں۔
3۔ سورج کی روشنی
قدرت سے جُڑنا بھی ذہنی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ سورج کی روشنی صرف جسم کے لیے نہیں، بلکہ ذہن کے لیے بھی توانائی کا ذریعہ ہے۔ سورج کی روشنی میں کچھ وقت گزارنا، چاہے وہ صبح کے وقت ہو یا شام کے سنہری لمحے، موڈ کو بہتر بناتے ہیں، اور توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔
4۔ تعلقات یعنی رابطہ رکھنا
انسان ایک سماجی مخلوق ہے، اس لیے دوسروں سے رابطہ خوشی کا اہم ذریعہ ہے۔ روز کسی نہ کسی سے بات کرنا، حال احوال پوچھنا یا مسکرا کر سلام کرنا بھی دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔ قریبی اور مثبت تعلقات ذہنی سکون میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
5۔ جسمانی حرکت
ہم میں سے بیشتر لوگ جسمانی ایکٹیوٹی کو اکثر نظرانداز کردیتے ہیں، حالانکہ روزانہ کی ہلکی چہل قدمی یا ورزش، جسم اور دماغ دونوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ چند منٹ کی یہ سرگرمی دماغ اور جسم دونوں کو تازہ دم کرتی ہے۔ اگر وقت کم ہو تو پانچ منٹ بھی کافی ہیں۔
6۔ تفریح اور ہنسنا مسکرانا
زندگی کے ذمہ داریوں میں تفریح، ہنسی اور خوشی کے لمحے پیدا کرنا آسان نہیں، مگر بہت ضروری ہے۔ ذمہ داریوں کے بوجھ میں دب کر خوشی کو نظرانداز کرنا خود پر ظلم کے مترادف ہے۔ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، پسندیدہ مشغلے اپنانا یا ہنسی مذاق کے مواقع پیدا کرنا ذہنی تازگی کا باعث بنتا ہے۔
7۔ بامعنی کام
کوئی بامعنی اور ایسا کام جو آپ کو پسند ہو آپ کے دل کا مسرور کرتا ہو سکون دیتا ہو۔ ایسا کام جو محض ذمہ داری نہ ہو بلکہ جس میں دل لگتا ہو، انسان کو اندرونی اطمینان فراہم کرتا ہے۔ جومصروفیت یا کام آپ کے دل کو بھائیں۔ لکھنا، تحقیق کرنا، ترتیب دینا یا تجزیہ کرنا، کچھ بھی ہوسکتا ہے پینٹنگ، شاعری یا کچھ ایسا جو آپ کو اندرونی سکون دیتے ہیں۔ روزانہ کم از کم ایک ایسا کام ضرور کریں جس میں دل لگتا ہو۔
8۔ صفائی اور ترتیب
گھر یا کام کی جگہ میں ترتیب اور صفائی بھی ذہنی سکون سے جڑی ہوتی ہے۔ جب اردگرد کا ماحول صاف اور منظم ہو تو سوچ میں وضاحت اور دل میں ہلکا پن محسوس ہوتا ہے۔
کچن کا کاؤنٹر صاف کرنا یا ایک کمرہ ترتیب دینا صرف پانچ یا 10 منٹ کا کام ہے ، لیکن یہ فوری سکون اور راحت کا احساس دیتا ہے۔
9۔ ایکٹیوٹی یا مصروفیت
فارغ وقت کا درست استعمال بھی اہم ہے۔ بے مقصد اسکرولنگ سے بہتر ہے کہ وقت کا استعمال دلچسپ اور مفید سرگرمیوں میں کریں۔ مثلاً اچھی کتاب پڑھیں، کوئی اچھی فلم دیکھ لیں، میوزیم یا تھیٹر جائیں، یا کوئی ہنر یا مشغلہ اپنائیں۔ یہ آپ کو خوشی کا بہت خوشگوار احساس دے گا۔
10۔ صحت مند غذا اور مشروبات
آخر میں غذا کا ذکر ضروری ہے۔ سادہ، متوازن اور پسندیدہ کھانے نہ صرف جسم کو توانائی دیتے ہیں بلکہ بلکہ خوشی کے احساس کو بھی بڑھاتے ہیں۔ کھانے کو جلدی نمٹانے کے بجائے اسے لطف کے ساتھ کھانا بھی خود کی قدر کرنے کی ایک شکل ہے۔
کبھی کبھار لطف اندوز مشروبات کے لیے موقع بنایا جا سکتا ہے، اعتدال کے ساتھ لطف اندوز ہونا زندگی کو آسان اور خوشگوار بناتا ہے۔
یاد رکھیں خوش رہنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں کہ اس میں بڑی کوشش اور محنت درکار ہو بلکہ یہ، شکر گزاری کے احساس اور ہمارے روزمرہ کے معمولات، فیصلے اور عادات ہیں جو زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں۔
جب ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سکون، محبت، حرکت اور دلچسپی شامل کرتے ہیں، تو خود بخود زندگی زیادہ خوشگوار، صحت مند اور متوازن ہو جاتی ہے۔