اسرائیل نے غزہ سے تمام یرغمالیوں کی بازیابی کا اعلان کردیا
اسرائیلی فوج نے پیر کو اعلان کیا کہ غزہ میں موجود آخری اسرائیلی لاش کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد تمام قیدیوں اور ہلاک شدہ اہلکاروں کی واپسی کا عمل مکمل ہو گیا۔ فوج نے ہلاک شدہ مغوی ران گویلی کی لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی ترجمان کیپٹن ایلا نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ نیشنل سینٹر فار فارنزک میڈیسن کے ذریعے شناخت کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ران گویلی کی لاش اس کے اہل خانہ کو واپس کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح غزہ سے تمام اسرائیلی مغویوں کی واپسی مکمل ہو چکی ہے۔
ران گویلی اسرائیلی پولیس کی خصوصی پٹرولنگ یونٹ ’سام‘ کا اہلکار تھا، جس کی عمر 24 برس تھی اور وہ سات اکتوبر 2023ء کو ہلاک ہوا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی لاش کو غزہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
العربیہ اور الحدث کے رپورٹرز کے مطابق سال 2014 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ غزہ میں کوئی اسرائیلی قیدی یا لاش موجود نہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے وعدے کے مطابق سب کو واپس لے لیا ہے، اور یہ اسرائیلی فوج، ریاست اور شہریوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
دوسری جانب حماس نے اعلان کیا کہ تبادلے کا مرحلہ اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور تنظیم غزہ کی انتظامی کمیٹی کے کام میں سہولت فراہم کرنے اور اس کی کامیابی کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے گی۔
یہ پیش رفت اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی جس میں اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے ایک قبرستان میں کارروائی کی تھی تاکہ ران گویلی کی باقیات تلاش کی جا سکیں۔ باقی ماندہ یرغمالی کی واپسی کو رفح کراسنگ دوبارہ کھلنے کی راہ میں آخری رکاوٹ کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کی نشاندہی کرے گا۔
تمام باقی یرغمالیوں کی واپسی، چاہے وہ زندہ ہوں یا ہلاک، جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اہم حصہ تھی جو 10 اکتوبر 2025ء کو نافذ ہوا تھی۔ اس معاہدے کے تحت حماس نے 20 زندہ یرغمالی واپس کیے تھے جبکہ 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کو سونپیں تھیں۔