حماس کی اپنی پولیس کو نئی امریکی انتظامیہ میں شامل کرنے کی کوشش
غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیم ’حماس‘ اپنے تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکاروں کو امریکی حمایت یافتہ نئی فلسطینی انتظامیہ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم یہ مطالبہ اسرائیل کی مخالفت کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ اس گروپ نے ابھی تک ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
حماس نے اکتوبر میں امریکی ثالثی کے نتیجے میں طے شدہ جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ کے نصف حصے کا انتظام سنبھال رکھا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل غزہ سے اپنی فوج تب ہی واپس نکالے گا جب حماس ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوجائے گی۔
غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طے شدہ حالیہ 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت غزہ کی حکومت کو نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (این سی اے جی) کے سپرد کرنے کا کہا گیا ہے، جو ایک فلسطینی تکنوکریٹک ادارہ ہے اور امریکا کی نگرانی میں کام کرے گا۔
اس ادارے کے تحت حماس کو باضابطہ طور پر حکومتی امور میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے تحت حماس نے اتوار کو اپنے ملازمین کو ایک خط میں ہدایت کی تھی کہ وہ این سی اے جی کے ساتھ تعاون کریں۔ حماس نے خط میں اپنے ملازمین کو یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ حکومت کے 40 ہزار سول اور سیکیورٹی اہلکار نئی انتظامیہ میں شامل ہوں گے، جن میں 10 ہزار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ اسرائیل اس شمولیت کو منظور کرے گا یا نہیں، کیونکہ اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ حماس کو غزہ کی حکومت میں کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا۔
رائٹرز نے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ حماس کے یہ منصوبے اور پولیس اہلکاروں کی شمولیت، امریکا کے ساتھ اسرائیل کے درمیان اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ”بورڈ آف پیس“ کا قیام کیا ہے، جو عبوری انتظامیہ کے طور پر غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے فریم ورک طے کرے گا اور فنڈنگ کو مربوط کرے گا۔
اس منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ ”غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں“ کو حکومتی امور میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
حماس کے ترجمان حاذم قاسم نے کہا ہے کہ گروپ این سی اے جی کے 15 رکنی ادارے اور اس کے سربراہ علی شعث کو فوری طور پر حکومتی امور سونپنے کے لیے تیار ہے۔
حماس اس بات کے لیے بھی تیار ہے کہ بعض ملازمین ریٹائر ہو جائیں اور وزارتیں نئی انتظامیہ کے مطابق دوبارہ تشکیل پائیں، تاکہ بڑے پیمانے پر برطرفیوں سے کسی قسم کا افراتفری نہ پیدا ہو۔
ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ غزہ میں بھاری ہتھیار فوری طور پر غیر فعال کیے جائیں۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق حماس کے جنگجو اہلکاروں کو کچھ معافی دیے جانے کا امکان بھی ہے۔
حماس کے پاس ابھی بھی راکٹ اور ہزاروں ہلکے ہتھیار موجود ہیں، جن میں رائفلیں بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق حماس نے دیگر فلسطینی گروپوں اور ثالثوں کے ساتھ ہتھیار جمع کرانے پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مگر ابھی تک امریکا یا ثالثوں نے کوئی واضح یا تفصیلی منصوبہ پیش نہیں کیا۔
حماس کے قریبی ذرائع کے مطابق اگر معاہدہ طویل مدت کے لیے ہوتا ہے، تو ہتھیار غیر فعال کرنے کی بات ممکن ہے اور گروپ پانچ سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصے کے لیے جنگ بندی پر آمادہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پارلیمان میں کہا ہے کہ غزہ کے اگلے مرحلے میں علاقے کی دوبارہ تعمیر نہیں بلکہ حماس کے ہتھیار ختم کرنے اور علاقے کو غیر مسلح بنانے پر زور دیا جائے گا۔