شائع 28 جنوری 2026 01:21pm

ایرانی ڈرونز سرحد کے قریب پہنچ چکے امریکی بحری بیڑے کے لیے بڑا خطرہ

امریکی میڈیا نے ایرانی ڈرونز کو سرحد کے قریب پہنچ چکے امریکی بحری بیڑے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق ایرانی ڈرونز کے جُھنڈ، خاص طور پر کم قیمت والے خود کش ڈرونز امریکی بحری جہازوں، بشمول یو ایس ایس ابراہیم لنکن کیرئیر اسٹرائیک گروپ کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔

ڈرون کمپنی ڈریگن فلائی کے سی ای او کیمرون چیئل کے مطابق ایران کی جانب سے کم قیمت ڈرونز کو بڑے پیمانے پر لانچ کرنا امریکی جدید دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

چیئل نے مزید کہا کہ اگر سیکڑوں ڈرونز ایک ہی وقت میں حملہ کریں تو کچھ لازمی طور پر دفاعی نظام سے گزر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جدید دفاعی نظام پہلے ایسے سیر شدہ حملوں کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق، یو ایس ایس ابراہیم لنکن اسٹرائیک گروپ ابھی سینٹرل کمانڈ کے زیرِ نگرانی علاقے میں داخل نہیں ہوا، لیکن وہ جلد ہی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی مضبوط کرنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

امریکی فضائی، زمینی اور بحری اثاثے بھی علاقے میں بڑھا دیے گئے ہیں، اور ایف-15 لڑاکا طیارے اور بھاری ساز و سامان لے جانے والے سی-17 طیارے خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

چیئل نے کہا کہ ایران نے ’کیٹیگری ون اور کیٹیگری ٹو‘ ڈرون سسٹمز میں امریکا پر برتری حاصل کر رکھی ہے، جو کم قیمت اور بڑی تعداد میں پیدا کیے جا سکتے ہیں اور غیر متوازن جنگ میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ ’کیٹیگری تھری‘ سسٹمز میں ایران امریکا سے کئی دہائیوں پیچھے ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 جنوری کو اس تعیناتی کے بارے میں کہا کہ ’ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا اس طرف جا رہا ہے، اور ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کچھ نہ ہو، لیکن ہم ان کی حرکات کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘

Read Comments