بنگلہ دیش میں انتخابی مہم تیز، تبدیلی کا خواب دیکھنے والے نوجوان مایوس
بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم کرنے کے بعد جس بڑی تبدیلی کی امید کی تھی، وہ اب مدھم پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم شادمان مجتبیٰ ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے والدین اور پولیس کی مخالفت کے باوجود احتجاج میں حصہ لیا۔
شادمان کا ماننا تھا کہ یہ مظاہرے خاندانی سیاست کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ان کی امیدوں میں واضح کمی آچکی ہے۔
شادمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے بنگلہ دیش کا خواب دیکھا تھا جہاں جنس، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب کو برابر مواقع ملیں، مگر جس قسم کی پالیسی تبدیلیوں اور اصلاحات کی توقع تھی وہ ابھی نظر نہیں آ رہیں۔
شادمان جیسے ہزاروں نوجوانوں نے 2024 میں سڑکوں پر نکل کر شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا، کیونکہ وہ شیخ حسینہ کے دور میں سیاسی دباؤ، بے روزگاری اور معاشی مواقع کی کمی سے تنگ آ چکے تھے اور ایک ’’نئے بنگلہ دیش‘‘ کے خواہاں تھے۔
اگرچہ یہ انتخابات 2008 کے بعد پہلی بار شیخ حسینہ کے بغیر ہوں گے، مگر کئی نوجوانوں کا خیال ہے کہ شیخ حسینہ کے جانے کے بعد نہ تو کوئی بڑی اصلاح سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی مضبوط نیا سیاسی متبادل ابھر سکا ہے۔
اس وقت سیاسی مقابلہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان دکھائی دیتا ہے، جنہیں رائے عامہ کے جائزوں میں برتری حاصل ہے۔
رائٹرز سے بات کرنے والے زیادہ تر نوجوانوں نے آزادانہ انتخابات کے امکان پر خوشی کا اظہار کیا، لیکن امیدواروں کے انتخاب پر مایوسی بھی ظاہر کی۔
سیاسی تجزیہ کار آصف شاہین کے مطابق نوجوان ووٹرز، جنہیں ’جین زی‘ کہا جاتا ہے، اس تحریک کی اصل قوت تھے اور وہ ووٹنگ کے نتیجے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
ابتدا میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ نوجوان نئی بننے والی نیشنل سٹیزنز پارٹی کی حمایت کریں گے، مگر جماعت اسلامی کے ساتھ اس کے اتحاد نے کئی نوجوانوں کو بددل کر دیا ہے۔
کچھ طلبہ کا کہنا ہے کہ اب ووٹرز کو ایک بار پھر پرانی سیاست اور محدود انتخاب کے درمیان فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت بھی نوجوانوں کی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی ہے۔
کئی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جس انقلاب کی بات کی گئی تھی، اس کی روح اب کمزور پڑ گئی ہے۔
اس کے باوجود نوجوانوں کی بڑی تعداد انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔ 300 نشستوں پر ہونے والے ان انتخابات کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں میں اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوگا، جس میں وزیر اعظم کی مدت، صدر کے اختیارات اور عدلیہ کی خودمختاری جیسے نکات شامل ہیں۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق 18 سے 35 سال کے افراد میں ووٹ ڈالنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔
کچھ نوجوانوں کا خیال ہے کہ ملک کو استحکام دینے کے لیے اب بھی کسی بڑی اور منظم جماعت کی ضرورت ہے، اس لیے وہ بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ جماعت اسلامی کو ایک نئے آپشن کے طور پر آزمایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب کچھ افراد اب بھی نئی سیاسی ثقافت کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔
ڈاکٹر تسنیم جارا، جو ایک آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حقیقی سیاسی تبدیلی وقت لے گی مگر امید ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق اگرچہ فوری طور پر بڑی تبدیلی ممکن نہیں، لیکن نوجوانوں کا خواب ایک دن ضرور حقیقت بنے گا۔
بہت سے نوجوان ووٹرز اب بھی اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، وہ جدوجہد چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور مستقبل میں ایک بہتر بنگلہ دیش کی امید زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔