اپ ڈیٹ 28 جنوری 2026 03:36pm

ناسا کے طیارے کی کریش لینڈنگ، آگ بھڑک اٹھی

ناسا کے ایک تحقیقاتی طیارے میں منگل کو فنی خرابی پیدا ہو گئی، جس کے بعد طیارے کو ٹیکساس میں بغیر لینڈنگ گیئر کے ہنگامی طور پر اتارنا پڑا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ رن وے پر اپنے نچلے حصے کے بل پھسلتا ہوا آگے بڑھتا ہے، جس کے دوران اس کے نیچے سے آگ کے شعلے اور دھواں نکلتا رہا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ناسا نے بتایا کہ یہ لینڈنگ ہیوسٹن کے جنوب مشرق میں واقع ایلنگٹن ایئرپورٹ پر کی گئی۔ ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ طیارے میں موجود دونوں عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ طیارے کو ایک میکینیکل مسئلہ پیش آیا تھا، جس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

یہ طیارہ ناسا کا WB-57 ماڈل ہے، جس کی ساخت پتلی اور منفرد ہے۔ اس میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے اور یہ طیارہ لگ بھگ ساڑھے چھ گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے۔

یہ طیارہ 63 ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ آہستہ آہستہ نیچے آتا ہے اور رن وے کو چھوتے ہی جھٹکے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اس کے پروں میں ہلکی سی اچھال نظر آتی ہے جبکہ نیچے سے زرد رنگ کے شعلے اور سفید دھواں نکلتا ہے۔ طیارہ کچھ فاصلے تک رن وے پر پھسلتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ رفتار کم ہونے لگی۔

مقامی نیوز چینل کی فوٹیج میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ طیارہ رکنے کے بعد اس کا کاک پٹ کھلا ہوا تھا، اردگرد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موجود تھیں اور ایمرجنسی عملہ طیارے کے سامنے کے حصے کے قریب کام کر رہا تھا۔

ناسا کے مطابق WB-57 طیارہ 1970 کی دہائی سے تحقیقاتی مشنز کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور آج بھی سائنس کمیونٹی کے لیے ایک اہم اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ ادارے نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Read Comments