شائع 28 جنوری 2026 09:17pm

سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ میں کئی تضاد سامنے آگئے، معاملات مزید الجھا دیے

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ میں کئی تضاد سامنے آگئے اور کمشنر کراچی کی تحیقیقاتی رپورٹ نے کئی سوالات اٹھادیے ہیں، رپورٹ میں کئی اہم معاملات کا سرے سے ذکر تک نہیں کیا گیا جب کہ رپورٹ عجلت میں تیار ہوئی یا پھر کسی کو بچایا جارہا ہے کئی سوالات اٹھ گئے؟

سانحہ گل پلازہ پر کمشنر کراچی کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد کئی تضادات اور سوالات سامنے آ گئے ہیں۔ رپورٹ میں ابتدائی اطلاع، فائر ٹینڈرز کی تاخیر، پانی کی فراہمی اور ریسکیو عملے کی کارکردگی کے حوالے سے خامیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ لگنے کا وقت 10 بج کر 15 منٹ بتایا گیا ہے، فائر بریگیڈ کو اطلاع 10 بج کر 26 منٹ پر ملی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اطلاع کے 11 منٹ بعد 10 بج کر37 منٹ پر پہلا فائر ٹینڈر گل پلازہ پہنچا حالانکہ فائراسٹیشن گل پلازہ سے صرف 5 منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔

متاثرین کے مطابق پہلے فائر ٹینڈر کا پانی 20 منٹ کے اندر ختم ہو گیا اور فائر ٹینڈرز میں ڈیزل بھی ختم ہو چکا تھا مگر تحقیقاتی رپورٹ میں پانی اور ایندھن کی کمی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈبل ون اور ڈبل ٹو عملہ آدھا گھنٹہ تاخیر کے بعد 10 بج کر 53 منٹ پر پہنچا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں فائر ٹینڈرز کی بروقت آمد اور آگ کی شدت میں تاخیر کے بارے میں کوئی وضاحت شامل نہیں کی گئی۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ غیر تربیت یافتہ اور خوفزدہ ریسکیو عملہ عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکا جب کہ ڈبل ون، ڈبل ٹو عملے نے کھڑکیاں اور دیواریں توڑ کر متاثرین کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں ریسکیو عملے کی ناکامی اور کارروائی کے دوران تاخیر کی وجوہات پر بھی روشنی نہیں ڈالی گئی۔

اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا رپورٹ عجلت میں تیار کی گئی، جان بوجھ کر ناقص جاری کی گئی، یا کسی کو بچانے کے لیے حقیقت کو چھپایا گیا۔

Read Comments