شائع 29 جنوری 2026 08:48am

سانحہ گل پلازہ: کراچی سمیت صوبے کی کئی اہم شخصیات کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت چھ گھنٹے طویل اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمشنر کراچی کی پیش کردہ تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کر دیا گیا۔ اجلاس میں کراچی سمیت صوبے کی کئی اہم شخصیات کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا، جبکہ واقعے سے متعلق رپورٹ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بھی بھجوا دی گئی۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے تحقیقاتی رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کی روشنی میں اہم اور ناگزیر تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور انتظامیہ کی جانب سے کارروائی انتہائی سست رہی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مختلف افسران ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے رہے، جس سے ریسکیو اور ریلیف کے عمل میں تاخیر ہوئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، فائر بریگیڈ اور 1122 سمیت تمام متعلقہ اداروں کا ردعمل غیر تسلی بخش اور سست تھا۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں اصل ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اسے دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، جس پر اجلاس میں موجود شرکاء بھی مطمئن نہیں ہیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت فیصلے کیے جائیں گے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ سانحے کے اسباب، انتظامی ناکامیوں اور ذمہ داریوں کا ازسرِنو اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ضیاء لنجار، ناصر حسین شاہ اور مرتضیٰ وہاب سمیت آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے سانحہ گل پلازہ کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی اور آئندہ کے لیے مؤثر اقدامات پر غور کیا۔

Read Comments