اپ ڈیٹ 29 جنوری 2026 10:00am

ایران پر امریکی حملے کا خدشہ، شام میں موجود روسی فوجی اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات تیز

ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے خدشات کے پیش نظر روس نے شام میں اپنے فوجی اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے۔ اسی تناظر میں شامی صدر احمد الشرع نے ماسکو کا دورہ کیا جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کی۔

ملاقات سے قبل مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شامی صدر احمد الشرع نے شام میں اتحاد اور استحکام کی حمایت پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ روس نے نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کے استحکام میں تاریخی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، جسے شامی عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کی سیاسی اور عسکری حمایت نے مشکل وقت میں شام کو سہارا دیا۔

ملاقات کا اختتام مثبت انداز میں ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں تعلقات اور تعاون کے مزید فروغ پر اتفاق کیا۔ 

دوسری جانب ملاقات سے قبل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے میڈیا کو بتایا کہ صدر پیوٹن اور شامی صدر کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شام میں روسی فوجیوں کی موجودگی، موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق رواں ہفتے روس نے کردوں کے زیرِ کنٹرول شمال مشرقی شام کے قمشلی ہوائی اڈے سے اپنی افواج کو واپس بلا لیا ہے، جس کے بعد بحیرہ روم کے خطے میں روس کے صرف دو فوجی اڈے باقی رہ گئے ہیں۔

ان اڈوں کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Read Comments