شائع 29 جنوری 2026 11:25am

اوپن اے آئی کا خفیہ سوشل نیٹ ورک؟ بوٹس پکڑنے کا ماسٹر پلان لیک

ٹیکنالوجی کی دنیا میں، جہاں مصنوعی ذہانت کے اثرات بڑھ رہے ہیں، وہاں حقیقی انسانی رابطے کی اہمیت بھی برقرار ہے۔ اوپن اے آئی مبینہ طور پرایک نئے سوشل نیٹ ورک پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد صارفین کے لیے ایک محفوظ اور حقیقی آن لائن ماحول فراہم کرنا ہے، جہاں صارفین یقین سے جان سکیں کہ ان کے سامنے بوٹس نہیں بلکہ حقیقی انسان ہیں۔

یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے ایک چھوٹی ٹیم تیار کر رہی ہے، مگر اس کے امکانات کافی گہرے اور پیچیدہ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی اس پلیٹ فارم پر سخت شناختی نظام نافذ کرنے کا سوچ رہا ہے، جو عام ای میل یا فون نمبر کی بجائے بایومیٹرک تصدیق پر مبنی ہوگا۔

اس سسٹم میں فیس آئی ڈی یا ورلڈ اورب جیسے جدید آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں، جو ہر شخص کی منفرد شناخت کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کریں گے۔ اس طرح کا نظام بوٹس کے لیے تقریباً ناممکن بنا دے گا کہ وہ جعلی اکاؤنٹس بنا کر گفتگو میں شامل ہوں۔

تاہم ماہرین پرائیویسی کے خدشات بھی ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ بایومیٹرک معلومات اگر لیک ہو جائیں یا غلط استعمال ہوں تو انہیں بدلا نہیں جا سکتا، جس سے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

نیٹ ورک پر صارفین اے آئی ٹولز کے ذریعے مواد بھی بنا سکیں گے، جیسے تصویریں اور ویڈیوز، جس سے یہ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے براہ راست مقابلہ کرے گا۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے خود بھی اس مسئلے پر بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث آن لائن گفتگو اکثر غیر حقیقی لگتی ہے، جس سے صارفین کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ صارفین اب ایسی جگہ چاہتے ہیں جہاں وہ یقین سے جان سکیں کہ ان کا رابطہ انسانوں سے ہے، نہ کہ مصنوعی ذہانت سے۔

اگر یہ پروجیکٹ کامیاب ہوتا ہے تو یہ صارفین کو ایک ایسی جگہ دے سکتا ہے جہاں وہ یقین سے جان سکیں کہ وہ صرف حقیقی انسانوں سے بات کر رہے ہیں، نہ کہ کمپیوٹر یا بوٹس سے۔ اس کے باوجود، مارکیٹ میں پہلے سے موجود مضبوط سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے درمیان یہ ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔

اوپن اے آئی نے اس نیٹ ورک کے عوامی لانچ کی کوئی تاریخ نہیں دی اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ پروجیکٹ کب تک مکمل ہو جائے گا، لیکن اس کا مقصد آن لائن بات چیت کو زیادہ حقیقی اور قابل اعتماد بنانا بتایا جا رہا ہے۔

Read Comments