اپ ڈیٹ 29 جنوری 2026 06:54pm

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان

سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ غفلت پر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائیڈرنٹ انچارج کو معطل کردیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر سول ڈیفنس جنوبی اورایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو بھی معطل معطل کردیا گیا۔

جمعرات کو کراچی میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں قیمتیں جانیں ضائع ہوئیں، جس کے بعد سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سندھ کابینہ نے سب کمیٹی تشکیل دی، فیکٹ فائیڈنگ کمیٹی نے رپورٹ پیش کی، آج وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ سانحہ کے وقت بلڈنگ میں 2500 سے 2000 لوگ تھے، کچھ لوگ خود نکلے اور کچھ کو نکالا گیا، سانحے میں تقریبا 80 جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر سول ڈیفنس جنوبی کو معطل کردیا گیا ہے، ایڈیشنل سول ڈیفنس کو بھی معطل کیا جاتا ہے، دونوں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کی جاتی ہے، میونسپل کمشنرافضل زیدی کو پہلے ہی ہٹا دیا گیا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ وسائل کی کمی کے باوجود فائر فائٹرز نے خدمات سرانجام دیں، فائر فائٹر فرقان نے جان کا نذرانہ پیش کیا، فائر فائٹر کے وسائل بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے، عمارت کی انتظامیہ نے انتظامات نہیں کیے تھے، انتظامات نہ ہونے سے انخلا میں مشکلات ہوئیں، کمیٹی نے لیز میں سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔

شرجیل انعام میمن نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن سے کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھا جارہا ہے، درخواست کریں گے کہ حاضر سروس جج کو تعینات کریں۔ جوڈیشل انکوائری میں مزید کسی کی غفلت سامنے آئی تو ایکشن ہوگا، ایم کیوایم کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن کا اعلان نہیں کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے اس وقت بھی سیاست کی کوشش کی، جاں بحق افراد کے گھروں پر ایک ایک کروڑ کے چیک بھیج رہے ہیں، چیک بھیجنے کے عمل کی تشہیر نہیں کی جارہی، ماضی کے میئر نے آنکھ بند کرکے لیز دی تھی، ہم کسی سیاست جماعت کو جواب دہ نہیں، عوام کو جواب دہ ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت کسی دباؤمیں نہیں ہے، کراچی میں ایک سال کے دوران 1100 سے زائد آتشزدگی کے واقعات ہوئے، بلڈنگ انتظامیہ کے خلاف بھی ایکشن ہوگا، جوڈیشل انکوائری میں سب کچھ سامنے آجائے گا، حکومت کی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں کی گئی، اے سی کے ڈک سے آگ تیزی سے پھیلی، ہم نے الزام تراشی کے بجائے ثبوت پیش کیے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ جس نے احتجاج کرنا ہے کرے، ہم نہیں روکیں گے، شہر کی دیواریں گندی نہیں کرنے دیں گے، ایم کیو ایم گریس کا مظاہرہ کرے اور وزارتیں چھوڑے۔

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ 11 سالہ بچے سے گل پلازہ میں آگ لگی تھی، گل پلازہ میں حادثاتی آگ لگی تھی۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ خط لکھ دیا ہے۔ خط میں جوڈیشل کمیشن کے لیے درخواست کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ حاضر سروس جج کو نامزد کیا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ حکومت نے کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا، اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کابینہ کی سب کمیٹی کی تجویز کی منظوری دی تھی۔

Read Comments