اپ ڈیٹ 29 جنوری 2026 09:28pm

پی آئی اے حوالگی: نجکاری کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم میں معاہدہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری کے بعد کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم میں معاہدہ طے پاگیا ہے، عارف حبیب کنسورشیم حکومت کے ساتھ اپنا بزنس پلان شیئر کرے گا جب کہ حکومت اپنا پلان پہلے ہی نئے کنسورشیم کے حوالے کر چکی ہے۔

قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نجکاری کمیشن اور کامیاب کنسورشیم کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پاگیا ہے۔

یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی نجکاری سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی جس کی صدارت فاروق ستار نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری کے عمل، معاہدے اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن کے مطابق کامیاب کنسورشیم حکومت کے ساتھ اپنا بزنس پلان شیئر کرے گا جب کہ حکومت کی جانب سے اپنا منصوبہ پہلے ہی نئے کنسورشیم کو فراہم کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بزنس پلان کی تیاری مکمل ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی بھی کنسورشیم سے بریفنگ لے سکتی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات اب سول ایوی ایشن اتھارٹی کو منتقل ہوچکے ہیں جب کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے عارف حبیب کو کلیئر کیا۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ نجکاری کمیشن نے 20 سال کے بعد کوئی کامیاب نجکاری کی، جسے ایک بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین فاروق ستار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس سے قبل صرف ’’پچکاری‘‘ ہورہی تھی، اب جاکر حقیقی معنوں میں نجکاری ہوئی ہے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی نعمان اسلام شیخ نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومت گزشتہ سال کی بولی پر ہی کھڑی ہے یا اس معاہدے سے کوئی اضافی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پہلو پر بھی واضح بریفنگ دی جائے۔

فاروق ستار نے اس بات پر زور دیا کہ نجکاری کمیشن اس پورے عمل کی مانیٹرنگ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کنسورشیم نے کن کن شرائط پر عملدرآمد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی شرائط پر مکمل عملدرآمد کی گارنٹی ہونی چاہیے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن نے تصدیق کی کہ پی آئی اے کے کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ آج باضابطہ معاہدہ ہوگیا ہے اور نئے مالکان ایئرلائن کے لیے نیا بزنس پلان تیار کررہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے نجکاری کے عمل میں شفافیت، نگرانی اور طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم کا پی آئی اے نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر اظہار اطمینان

دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف انداز میں مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا نجکاری کے بعد پی آئی اے کی عظمت رفتہ بحال ہوگی اور عوام کو نہ صرف بہترین سفری سہولیات فراہم ہوں گی بلکہ پاکستان کا نام بھی بلند ہوگا۔

جمعرات کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کے حوالے سے حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم کے مابین ٹرانزیکشن کے دستاویزات پر دستخط و تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پرحکومتی اور کنسورشیم کے نمائندوں کی جانب سے نجکاری کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر محمد علی سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب تاریخی اہمیت کی حامل ہے جس پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف انداز میں بخوبی انجام کو پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ عارف حبیب کنسورشیم کا ملکی صنعتی ترقی اور خوشحالی کے لئے کردار نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے مسافروں کے لئے آرام دہ سفر، ان کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنائے گی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا ہوا بازی کے شعبے میں اہم مقام تھا، نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پی آئی اے کا ڈنکا بجتا تھا اور ’’گریٹ پیپل ٹو فلائی ود‘‘ کا سلوگن پی آئی اے کی پہچان تھا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ پی آئی اے کی عظمت رفتہ بحال ہوگی، سہولتوں کی بہتری سے ادارے کا معیار بھی بہتر ہوگا۔

انہوں نے نجکاری کے کامیاب عمل میں تمام شراکت داروں کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور حکومتی ٹیم نے اس سلسلے میں جو کردار ادا کیا وہ بے مثال ہے، نجکاری کے عمل میں بھرپور شرکت پر کنسورشیم کا کردار بھی لائق تحسین ہے۔

وزیراعظم نے مشیر نجکاری محمد علی کے پرائیویٹائزیشن کے عمل میں اہم کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے پر سرمایہ کاری میں سے 55 ارب روپے قومی خزانے میں آئیں گے۔

چیئرمین کنسورشیم عارف حبیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا گیا، ہم نے قومی کاز کے لئے خود کو پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 180ارب روپے کی سرمایہ کاری میں 125 ارب پی آئی اے کی بہتری پر خرچ ہوں گے۔ ملک میں کاروبار کے لئے ماحول سازگار ہے، میکرو اکنامک استحکام کی بدولت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نجکاری محمد علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔

یاد رہے کہ اس کنسورشیم نے دسمبر گزشتہ سال پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں خریدنے کی بولی جیتی تھی۔

Read Comments