اپ ڈیٹ 30 جنوری 2026 06:00pm

اسلام آباد کی بلند عمارتوں کا ابتدائی سروے مکمل، سنگین غفلت سامنے آگئی

ریسکیواداروں نے اسلام آباد کی بلند عمارتوں کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا ہے، جہاں 5 ہزار سے زائد بلند عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظمات نامکمل ہیں جب کہ ہائی رائز عمارتوں میں فائرالارم، فائر اسٹنگیشو اور فائر ہوزریل جیسے بنیادی آلات میں سنگین غفلت سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بلند عمارتوں کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا گیا ہے، اسلام آباد میں 500 سے زائد ہائی رائز عمارتیں موجود ہیں، 15 میٹر سے اونچی عمارتوں کو ہائی رائز عمارتوں میں شمارکیا گیا، 50 فیصد سے زائد عمارتوں میں فائرسیفٹی آلات مکمل نہیں ہیں، سرکاری اور نجی عمارتوں میں بلڈنگ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پائی گئی۔

ہائی رائز عمارتوں میں فائرالارم، فائر اسٹنگیشور،اور فائرہوزریل جیسے بنیادی آلات میں سنگین غفلت سامنے آئی ہے، صرف بلیو ایریا کی ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی تسلی بخش قراردی گئی ہے.

ریڈ زون کی متعدد ہائی رائز عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی کے آلات مکمل نہیں، فیڈرل سیکٹریٹ کے بلاکس میں فائر الارم اور آگ بجھانے کے دیگر آلات موجود ہی نہیں۔

کراچی کمپنی میں واقع ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی نہ ہونے کے برابرہے، ایف الیون، ایف ٹین، جی تیرہ، جی چودہ، گولڑہ موڑ میں موجود متعدد عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی کے انتظامات غیر مؤثر ہیں۔

سی ڈی اے کا شعبہ بلڈنگ کنٹرول سیکشن ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی کو چیک کا کرنے کا ذمہ دار ہے۔

Read Comments