اسرائیل کا غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ کھولنے کا اعلان
اسرائیل نے غزہ پر مسلسل بمباری کے بعد بالآخر فلسطینیوں کا دیرینہ مطالبہ مانتے ہوئے غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ کو یکم فروری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعے کو اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو اتوار کے روز یکم فروری کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جو مئی 2024 کے بعد پہلی بار غزہ میں داخلے اور باہر جانے کا مؤثر راستہ بحال ہوگا۔
غزہ میں شہری امور سے متعلق اسرائیلی حکومتی ادارے کوآرڈی نیٹر آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز ان دی ٹیریٹریز نے بتایا ہے کہ رفح بارڈر کراسنگ محدود شرائط کے تحت کھولی جائے گی، جس کے ذریعے غزہ اور مصر کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی تاہم ادارے نے یہ واضح نہیں کیا کہ روزانہ کتنے افراد کو سرحد عبور کرنے کی اجازت ہوگی۔
حکومتی ادارے کے مطابق صرف وہی فلسطینی جو جنگ کے دوران غزہ سے مصر گئے تھے، اسرائیلی سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد مصر سے واپس غزہ آ سکیں گے اور یہ عمل مصر کے ساتھ رابطے میں مکمل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مئی 2024 میں غزہ جنگ کے آغاز کے تقریباً 9 ماہ بعد رفح کراسنگ پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس کراسنگ کی بحالی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے پہلے مرحلے کی ایک اہم شرط تھی، جس پر اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی۔
اسرائیل کا کہنا تھا کہ آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی بازیابی کے بعد ہی رفح کراسنگ کھولی جائے گی، جو رواں ہفتے مکمل ہوئی۔ اس سے قبل خبر برطانوی رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد محدود رکھنا چاہتا ہے تاکہ غزہ سے باہر جانے والوں کی تعداد زیادہ رہے تاہم مصر نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
معاملے سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق مصر اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کے باوجود کراسنگ کھول دی جائے گی اور اسرائیل کی خواہش ہے کہ روزانہ تقریباً 150 افراد کو غزہ واپس آنے کی اجازت دی جائے۔
رپورٹ کے مطابق رفح کراسنگ کی بحالی صرف افراد کی آمد و رفت تک محدود ہوگی جبکہ غزہ کو درپیش شدید انسانی امدادی ضروریات بدستور برقرار ہیں۔ عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پابندیوں کے باعث ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
عالمی ریڈ کراس کمیٹی کی صدر میر جانا سپولیارک نے بیان میں کہا کہ غزہ کے بہت سے لوگ اب بھی ملبے میں زندگی گزار رہے ہیں، بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور سخت سرد موسم میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پانی کی پائپ لائنز اور جنریٹرز جیسے دوہرے استعمال کے سامان پر پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی 2 سالہ فوجی کارروائی کے باعث غزہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے اور تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔