اپ ڈیٹ 31 جنوری 2026 10:46am

’عوام پولیس کے نوکر نہیں‘: سپریم کورٹ کا پولیس کلچر میں بڑی اصلاحات کا حکم

سپریم کورٹ کا ایک اور بڑا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پولیس کلچر میں بڑی اصلاحات کا حکم دے دیا، عدالت عظمیٰ نے درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ اولکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوے ایس ایچ او کو عوام کا خادم قرار دیدیا۔

سپریم کورٹ نے پولیس کلچر میں بنیادی اصلاحات کا حکم دیتے ہوئے واضح قرار دیا ہے کہ عوام پولیس کے نوکر نہیں بلکہ پولیس عوام کی خادم ہے، اور سرکاری کارروائی میں نوآبادیاتی اور غلامانہ زبان کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔

سپریم کورٹ نے محمد بخش عرف شاہ زیب بنام سندھ گورنمنٹ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ نے کی جبکہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔

عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ اب درخواستوں میں ’بخدمت جناب ایس ایچ او‘ لکھنے کی اجازت نہیں ہو گی اور صرف ’جناب ایس ایچ او‘ لکھا جائے گا، کیونکہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، حاکم نہیں۔

فیصلے کے مطابق ایف آئی آر درج کروانے والے شہری کو اب فریادی نہیں بلکہ شکایت کنندہ یا اطلاع دہندہ لکھا جائے گا، جبکہ پولیس کارروائی میں لفظ فریادی کے استعمال کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ لفظ فریادی رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، جبکہ شہری اپنا آئینی حق مانگتا ہے، کوئی احسان نہیں۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، لہٰذا تاخیر کی صورت میں متعلقہ پولیس افسر کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جا سکتا ہے۔

Read Comments