نُعمان آئی لینڈ، جہاں سمندر نے تاریخ کو گود لے رکھا ہے
سعودی عرب کے تبوق ریجن میں دُبا پورٹ کے جنوب میں واقع نُعمان آئی لینڈ ریڈ سی کا ایک ابھرتا ہوا سیاحتی مرکز بن رہا ہے۔ یہ جزیرہ امالا (Amaala) منصوبے کا حصہ ہے، جہاں قدرتی حسن اور بحری تاریخ کا دلکش امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
جزیرے کے قریب 1969 میں ڈوبنے والا نانٹس نامی بحری جہاز آج ایک مصنوعی ریف کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو سمندری حیات کے لیے محفوظ مسکن بننے کے ساتھ ساتھ غوطہ خوری کے شوقین سیاحوں کے لیے بھی بڑی کشش رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پائیدار سیاحت کو فروغ دینے کی ایک نمایاں مثال ہے، جو ریڈ سی کے قدرتی ماحول کے تحفظ کے ساتھ سیاحت کو نئی جہت دے رہا ہے۔
جزیرے کے عظیم الشان پہاڑ ہوں یا کم اونچی پہاڑیاں، ہر مقام سے مملکت کے مغربی ساحلی علاقے کے دور تک پھیلے ہوئے دل موہ لینے والے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ چاروں جانب فیروزی رنگ کے شفاف اور بلوریں پانیوں کی چمک اس جزیرے کو ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔
قدرتی دلکشی کے ساتھ ساتھ جزیرہ نُعمان کے نیچے پانی میں ایک نایاب قسم کا ’’میوزیم‘‘ بھی موجود ہے، جہاں نانٹس نامی بحری جہاز 1969 میں کناروں سے ٹکرا کر پھنس گیا تھا۔ دہائیوں کے دوران آبی حیات نے جہاز کی باقیات کو ایک ایسی چٹان نما شکل میں بدل دیا ہے جہاں سمندری زندگی خوب پنپ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام دنیا بھر کے غوطہ خوروں کی پسندیدہ منزل بن چکا ہے، جو تاریخ اور فطرت کی ہم آغوشی کو قریب سے دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
جزیرے میں آبی حیات اور نباتات کا باہمی امتزاج ایک متوازن ماحولیاتی نظام کو جنم دیتا ہے۔ یہ علاقہ نایاب قسم کے احمری حشرات کی جائے پناہ بھی ہے، جبکہ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے عارضی قیام گاہ کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔
اس نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ریڈ سی اتھارٹی ایک جامع اور اسٹریٹیجک ضابطہ کار کے تحت کام کر رہی ہے۔ اتھارٹی نے ایسے فریم ورک متعارف کرائے ہیں جو سیاحتی سرمایہ کاری اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جزیرہ نُعمان نہ صرف آنے والی نسلوں کے لیے صاف ستھرا اور محفوظ مسکن بنا رہے بلکہ یہاں آنے والے سیاح ایک ایسے ساحلی تجربے سے لطف اندوز ہوں جو انہیں طویل عرصے تک یاد رہے۔