اپ ڈیٹ 01 فروری 2026 06:12pm

غزہ: اسرائیل نے 2 سال بعد رفح بارڈر کھول دیا، محدود آمد و رفت کی اجازت

اسرائیل نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد اتوار کے روز غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو دو سال بعد جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے اتوار کے روز رفح کراسنگ کو کھول دیا ہے تاہم اس راستے سے صرف غزہ کے شہریوں کی محدود آمد و رفت کی اجازت دی گئی ہے جبکہ امدادی سامان کی ترسیل پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں اور صرف محدود مقدار میں سامان داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے فلسطین خصوصاً غزہ سے متعلق امور کی نگرانی کے لیے قائم ذیلی ادارے کوگیٹ نے اتوار کو اعلان کیا کہ رفح کراسنگ کو آج صرف شہریوں کی محدود نقل و حرکت کے لیے کھولا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق تقریباً 20 ہزار مریض جانے کے منتظر ہیں جنہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک فلسطینی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ تقریباً 40 افراد مصر کی جانب رفح کراسنگ پر پہنچ چکے ہیں، جو غزہ میں داخل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کے شہریوں کی آمد و رفت اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ مئی 2024 میں حماس کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے اس راستے کو بند کردیا تھا۔

غزہ جنگ بندی کے بعد انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اسرائیل سے امدادی سامان اور مریضوں کی آمد و رفت کے لیے رفح کراسنگ کھولنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

اسرائیل نے غزہ جنگ معاہدے سے منہ پھیرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جب تک غزہ میں قید آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس نہیں کی جاتی، رفح کراسنگ نہیں کھولی جائے گی۔ چند روز باقیات کی حوالگی کے بعد اسرائیل نے رفح کراسنگ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

کوگیٹ کے مطابق شہریوں کی آمد و رفت مصر کے ساتھ رابطے، اسرائیل کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس اور یورپی یونین مشن کی نگرانی میں ہوگی۔ اسرائیل نے اس عمل کو ابتدائی آزمائشی مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے تیاریوں پر کام جاری ہے۔

عرب خبر رساں ادارے العریبہ نے ذرائع کے حوالےسے دعویٰ کیا ہے کہ رفح کراسنگ کی وسیع پیمانے پر بحالی پیر کو متوقع ہے، تاہم ابھی تک اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ کتنے فلسطینیوں کو داخلے یا خروج کی اجازت دی جائے گی۔ مصر ان تمام فلسطینیوں کو ہی قبول کرے گا جنہیں اسرائیل روانگی کی اجازت دے گا۔

رفح کراسنگ غزہ کی جنوبی سرحد پر مصر کے ساتھ واقع ہے اور یہ واحد راستہ ہے جو اسرائیل سے گزرے بغیر غزہ میں داخلے اور اخراج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ علاقہ امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت نام نہاد ’یلو لائن‘ سے پیچھے ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد حصے پر قابض ہیں جس میں رفح کراسنگ بھی شامل ہے جبکہ باقی علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔

رفح کراسنگ کی بحالی سے غزہ کے انتظامی امور کے لیے قائم 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارے ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کی انتظامی معاملات کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے، یہ کمیٹی غزہ کے روزمرہ امور کی نگرانی کرے گی جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم ’بورڈ آف پیس‘ کی سرپرستی حاصل ہوگی۔

Read Comments