سندھ طاس معاہدہ: بھارتی اقدام بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار
سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے غیر قانونی یکطرفہ اقدامات پر بحث کے لیے سلامتی کونسل میں آریا فارمولہ اجلاس کا انعقاد ہوا ہے۔
پاکستان کی میزبانی میں ”معاہدات کی حرمت کے تحفظ“ کے موضوع پر اَریا فارمولہ اجلاس 30 جنوری کو منعقد ہوا، بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے حوالے سے اجلاس میں تمام خطوں سے 40 رکن ممالک شریک ہوئے۔
سلامتی کونسل کے آریا فارمولہ اجلاس میں بھارت شریک نہ ہوا، آریا فارمولہ اجلاس سلامتی کونسل کا غیر رسمی اور خفیہ فورم ہے، آریا فارمولہ اجلاس کو کوئی بھی رکن ملک طلب کر سکتا ہے۔
اس فورم میں بین الاقوامی تنظیموں، غیر ریاستی اداروں اور سلامتی کونسل سے باہر کے ممالک کے اعلیٰ حکام سے براہِ راست تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
اجلاس میں اقوامِ متحدہ آفس آف لیگل افیئرز کے ڈیوڈ نینوپولوس، ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر احمر بلال صوفی، انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے صدر پرنس زید رعد الحسین اور بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر عادل نجم نے بریفنگ دی۔
مقررین نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں اور عالمی تعلقات میں استحکام کا بنیادی ذریعہ ہیں، مقررین نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کو کمزور کرنا اجتماعی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اقدام کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔
اجلاس میں شریک رکن ممالک نے سندھ طاس معاہدے جیسے معاہدات کو استحکام و تنازعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔