موموز کھانے کی لت نے بچے کو گھر کے زیورات چرانے پر مجبور کر دیا
بھارت یوپی کے ضلع دیوریا میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 14 سالہ لڑکے نے موموز کے شوق میں اپنے ہی گھر سے لاکھوں روپے کی زیورات چوری کر لیے۔۔ پولیس کے مطابق اسے موموز کھانے کی اتنی بری عادت پڑ گئی تھی کہ وہ گھر سے آہستہ آہستہ سونا چرانے لگا۔
رپورٹس کے مطابق لڑکا یہ زیورات اپنے علاقے میں ٹھیلا لگانے والے ایک مومو فروش کو دیتا تھا اور اس کے بدلے روزانہ موموز کھاتا تھا۔
مومو ایک قسم کی اسٹفڈ ڈمپلنگ ہے جو زیادہ تر شمالی بھارت، نیپال اور تبت میں مقبول ہے۔ یہ عام طور پر آٹے کی پتلی تہہ میں گوشت، سبزیاں یا پنیر کی بھرائی ڈال کر بنتی ہیں۔ موموز کو بھاپ میں یا تل کر پکایا جاتا ہے اور عموماً چٹنی یا ساس کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
اس کیس میں زیورات کے غائب ہونے کا یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب لڑکے کی خالہ اپنے والدین کے گھر آئیں تاکہ اپنے زیورات جمع کر سکیں۔ جب الماری کھولی گئی تو زیورات غائب تھے۔ گھر والوں نے جب لڑکے سے پوچھا تو اس نے اعتراف کیا کہ وہ موموز کھانے کے بدلے یہ سونا، مومو فروش کو دے دیتا تھا۔ اس انکشاف پر گھر والے حیران رہ گئے اور فوراً پولیس سے رابطہ کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں واقعے کی شکایت موصول ہوچکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ افسر کے مطابق، ”معاملے کی پوری جانچ کی جا رہی ہے۔ ہم تفصیلات کی تصدیق کر رہے ہیں اور جلد ہی متعلقہ افراد کو حراست میں لیا جائے گا۔“
پولیس اب موموز فروش کی تلاش میں ہے تاکہ تمام چوری شدہ زیورات کی مالیت کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ اس عجیب معاملے نے مقامی لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ ایک معمولی کھانے کی عادت کس طرح ایک کم عمر بچے کو جرم کے راستے پر لے جا سکتی ہے۔
بچوں میں کسی خاص چیز، عمل یا عادت کی شدید خواہش وقت کے ساتھ ایڈکشن کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جسے نفسیات میں ’کسی بھی چیز کی لت‘ کہا جاتا ہے۔
اس عمل میں بچے فوری خوشی یا سکون کے لیے کسی چیز کو بار بار چاہتے ہیں یعنی بس انہیں اپنی خواہش کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ خواہش کو دبانا یا خواہش پر کنٹرول ختم ہوجاتا ہے۔
آسان الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ خواہش قابو سے باہر ہو جائے اور بچے کو اپنی ضروریات یا اصولوں کو نظرانداز کرنے پر مجبور کرے، تو یہ رویے پر اثر ڈال سکتا ہے اور نقصان دہ فیصلے کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ والدین اور معاشرہ وقت پر نگرانی اور رہنمائی فراہم کریں تو بچے کی عادات کو مثبت سمت میں ڈھالا جا سکتا ہے، اور اسے نقصان دہ رویوں سے بچایا جا سکتا ہے۔