سانحہ گل پلازا: ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آ گئے
سانحہ گل پلازا کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی انکوائری میں اہم انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گل پلازا میں آگ دکان نمبر 193 میں ماچس جلنے سے لگی۔ واقعے سے متعلق ایک بچے کا بیان تیسری مرتبہ ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔
پولیس اور انکوائری کمیٹی نے واقعے سے قبل اور بعد کی 20 منٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے، تاہم میزنائن، پہلی اور دوسری منزل کی فوٹیج دستیاب نہ ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میزنائن فلور کی دستیاب فوٹیج کو باقاعدہ انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سانحہ گل پلازا میں 79 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اب تک 68 افراد کی میتیں اور باقیات ان کے ورثا کے حوالے کی جا چکی ہیں، جبکہ 5 افراد کی باقیات تاحال سرد خانے میں موجود ہیں۔ خرم سمیت پانچ افراد کا کوئی ولی وارث سامنے نہیں آ سکا، جبکہ چار سے زائد افراد کی باقیات اب تک نہیں مل سکیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آگ لگنے کے آدھے گھنٹے بعد بھی پلازا کی کئی دکانیں کھلی رہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں رات 11 بجے تک دکاندار اور گاہک اطمینان سے بیٹھے نظر آئے۔ بتایا گیا ہے کہ فائربریگیڈ نے ریسکیو کے بجائے فوری طور پر پانی مارنا شروع کیا، جبکہ دھواں بھرنے کے 20 منٹ بعد دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت گرل توڑی۔
ذرائع کے مطابق بیشتر افراد عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم 25 سے 30 افراد دبئی کراکری کے اندر ہی رک گئے۔ دبئی کراکری کے دکاندار کے بیان کے مطابق بعض افراد کو باہر نکلنے سے روکا گیا اور گاہکوں کو یہ کہا گیا کہ آگ خود ہی بجھ جائے گی۔ دکاندار نے دعویٰ کیا کہ اس نے تقریباً 150 افراد کو راستہ دکھایا۔
تحقیقات کے مطابق 20 سے زائد افراد کی باقیات دبئی کراکری اور اس کے اطراف سے ملی ہیں، جس سے واقعے میں غفلت اور بروقت ریسکیو نہ ہونے کے سنگین پہلو اجاگر ہو رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔