پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا معاملہ: ایران نے یورپی سفیروں کا طلب کرلیا
ایران نے یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب (ریولیوشنری گارڈ) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات یورپی یونین کے تمام سفیروں کو طلب کر لیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق سفیروں کو اتوار سے طلب کرنے کا عمل شروع ہوا جو پیر تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا چکا ہے اور متعدد آپشنز متعلقہ فیصلہ ساز اداروں کو بھیج دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں یورپی یونین کے اس ’غیرقانونی، غیر معقول اور غلط‘ اقدام کے جواب میں ایران کی جانب سے جوابی کارروائی پر فیصلہ متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران کو امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کا بھی سامنا ہے۔ امریکی بحریہ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیے ہیں۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی کارروائی کا فیصلہ کریں گے یا نہیں، تاہم خطے کے ممالک نئی جنگ کے خدشات کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
نیویارک میں قائم سوفان سینٹر تھنک ٹینک کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں مظاہرین کے قتلِ عام کے جواب میں ایسا ردعمل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ایرانی قیادت کو سزا ملے، مگر امریکا کسی طویل اور کھلے تنازع میں بھی نہ الجھے۔
گزشتہ ہفتے یورپی یونین نے جنوری میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران خونریز کریک ڈاؤن میں پاسدارانِ انقلاب کے کردار کے باعث اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان مظاہروں میں ہزاروں افراد ہلاک اور دسیوں ہزار گرفتار کیے گئے تھے۔
اس سے قبل امریکا اور کینیڈا بھی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ اگرچہ اس اقدام کو بڑی حد تک علامتی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس سے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھے گا کیونکہ پاسدارانِ انقلاب ملکی معیشت میں نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
دوسری جانب اتوار کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے 2019 کے ایک قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران اب یورپی یونین کی تمام افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کرتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وجود میں آئی اور بعد ازاں ایران کے آئین میں اس کا کردار شامل کیا گیا۔
ایران عراق جنگ کے دوران اس کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا اور جنگ کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے معاشی سرگرمیوں میں توسیع کی اجازت ملنے پر یہ ادارہ مزید مضبوط ہو گیا۔ حالیہ مظاہروں کو کچلنے میں بھی اس کے ذیلی ادارے بسیج فورس کے مرکزی کردار کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔