بسنت کی تیاریاں: لاہور کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات
محکمہ صحت پنجاب نے بسنت کی مناسبت سے لاہور کے 13 اسپتالوں کو چھ سے آٹھ فروری تک ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بسنت میلہ سجنے کی تیاریوں کے پیش نظر محکمہ صحت پنجاب نے شہر کے 13 سرکاری اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق یہ اسپتال چھ سے آٹھ فروری تک ہائی الرٹ رہیں گے۔
محکمہ صحت کی جانب سے اسپتال انتظامیہ کو تمام اسپتالوں میں میڈیکل، نرسنگ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی مکمل موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ادویات، ڈرپس، ویکسین اور ضروری سرجیکل سامان کی دستیابی بھی مکمل رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بسنت کے دوران ممکنہ ہنگامی صورت حال کے پیش نظر اسپتالوں میں بیڈز مختص کیے جائیں جب کہ بلڈ بیگز کی دستیابی یقینی بنانے اور خون عطیہ کرنے والے افراد کی فہرستیں تیار رکھنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری مراسلے میں اسپتالوں کو ایکسرے، الٹراساونڈ، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشین کو فنکنشل رکھنے کے علاوہ فعال موبائل اور ٹیلی فون کنکشن موجود رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
محکمہ صحت نے تمام متعلقہ اسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تیاریوں کا جامع پلان مرتب کرکے فوری طور پر محکمہ صحت کو جمع کروائیں۔
لاہور کے ساتھ مزید 4 اضلاع میں سامان کی تیاری کی اجازت
دوسری جانب لاہور میں 8،7،6 فروری کو بسنت کی تیاریوں کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
پنجاب کابینہ نے لاہور کے ساتھ مزید 4 اضلاع میں پتنگ بازی کے سامان کی تیاری کی اجازت دے دی ہے، لاہور کے ساتھ ساتھ فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں قابلِ اجازت پتنگ سازی مواد بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکومت پنجاب نے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت منظوری دی، ان 4 اضلاع میں مینوفیکچررز متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ رجسٹر ہوں گے، تمام مینوفیکچررز حکومت پنجاب کے e-Biz پورٹل کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کروائیں گے۔
رجسٹرڈ مینوفیکچررز صرف کائٹ فلائنگ رولز کے مطابق پتنگ اور ڈور تیار کر سکیں گے، رجسٹرڈ مینوفیکچررز صرف لاہور میں رجسٹرڈ ٹریڈرز یا سیلرز کو پتنگیں اور ڈور فروخت کر سکیں گے۔
تیار کردہ پتنگیں اور ڈور صرف لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو استعمال کے لیے فروخت کی جا سکیں گی، ان 4 اضلاع میں تیار کردہ پتنگ بازی کا سامان لاہور کے علاوہ کسی اور ضلع میں فروخت یا استعمال نہیں ہو گا۔
فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں صرف مینوفیکچرر کی رجسٹریشن ہو گی، ان 4 اضلاع میں ٹریڈر یا سیلر کے طور پر رجسٹریشن کی اجازت نہیں دی گئی، چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو منظوری کے مطابق انتظامات کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
6،7،8 فروری کو بسنت کی اجازت صرف لاہور کے لیے دی گئی ہے، مقررہ تاریخ سے قبل اور پنجاب کے کسی اور ضلع میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہے۔ چاروں اضلاع مزید رہنمائی کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی اور ڈپٹی کمشنر لاہور سے روابطہ کر سکتے ہیں۔
بسنت کو پرامن انداز میں منانے کے لیے حفاظتی انتظامات مکمل
ادھر ثقافتی تہوار بسنت کو محفوظ اور پرامن انداز میں منانے کے لیے حفاظتی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر بسنت فیسٹیول کے لیے جامع حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کو حفاظتی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کا حکم دیا گیا ہے، جس کے تحت ضابطہ اخلاق کا اطلاق لاہور کے تمام مقامات بشمول عمارتوں اور چھتوں پر ہوگا، پتنگ بازی ایکٹ اور سیفٹی رولز کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
ضلعی افسران اور پولیس کو چھتوں اور مقامات کے معائنے کا اختیار تفویض کیا گیا ہے، خطرناک ڈور اور ہوائی فائرنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، شہریوں کی حفاظت کے لیے دھاتی، کیمیائی اور نائلون ڈور کا استعمال سختی سے منع کیا گیا ہے جب کہ لاہور میں موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح ہوائی فائرنگ اور عوامی سکون میں خلل ڈالنے والے ساؤنڈ سسٹم پر پابندی عائد کی گئی ہے، ایئرپورٹ اور حساس تنصیبات کے قریب پتنگ بازی کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، چھتوں کے مالکان حفاظتی انتظامات اور کسی بھی حادثے کے ذاتی ذمہ دار ہوں گے جب کہ پتنگ بازی کے لیے غیر محفوظ چھتوں کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ثقافتی تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے، خطرناک ڈور کی خرید و فروخت پر پابندی پر سختی سے عمل کرایا جائے گا، قانون شکن عناصر کے خلاف فوری ایف آئی آر اور سخت کارروائی ہوگی، ڈرون کیمروں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے چھتوں کی فضائی نگرانی کی جائے گی، 30 افراد سے زائد گنجائش والی عمارتوں کی چھتوں پر بسنت پروگرام کیلئے اجازت نامہ لازمی ہوگا۔
اس کے علاوہ بڑے اجتماعات کے لیے دستاویزات کی فراہمی اور آن لائن اجازت ناموں کا طریقہ کار بھی جاری کیا گیا ہے۔