اپ ڈیٹ 03 فروری 2026 11:35am

ایرانی صدر نے امریکا سے مذاکرات کی اجازت دے دی

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان میں دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے گریز کیا جائے۔

صدر پزشکیان نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ دوست علاقائی ممالک کی جانب سے امریکا کے صدر کی مذاکرات کی تجویز پر ردِعمل دینے کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر بات چیت کے لیے ماحول سازگار بنانے کی تیاری کریں۔

صدر مسعود پزشکیان کے مطابق، یہ مذاکرات اسی صورت ممکن ہوں گے جب ایسا ماحول قائم ہو جس میں کسی قسم کی دھمکیاں اور غیر معقول توقعات شامل نہ ہوں۔

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران قومی مفادات کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہوئے ہی کسی بھی ممکنہ سفارتی عمل میں پیش رفت کرے گا۔

ایک اور ایکس پوسٹ میں ایرانی صدر نے کہا کہ یہ مذاکرات ہمارے قومی مفادات کے دائرۂ کار میں ہی کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے، اگر ڈیل طے نہ ہوئی تو ایران کے لیے برے نتائج ہوں گے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق، ایک طرف فوجی تیاری جاری ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ شروع کی تو یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔

Read Comments