ایران کو امریکا سے مذاکرات ترکیہ میں ہونے اور دیگر ممالک کی شرکت پر اعتراض
ایران اور امریکا کے درمیان جمعہ کو متوقع جوہری مذاکرات کے حوالے سے سفارتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور ایران کی جانب سے ان مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کرنے کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے۔ علاقائی سفارت کاروں کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ بات چیت ایسے ماحول میں ہو جہاں توجہ صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور دیگر علاقائی یا سیاسی امور اس عمل پر اثر انداز نہ ہوں۔
امریکی میڈیا نے سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران مذاکرات کے دوران صرف جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت پر زور دے رہا ہے اور وہ علاقائی ممالک کی براہ راست شرکت کا بھی خواہش مند نہیں ہے۔
اس کے برعکس وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے ہونے والی بات چیت اپنے طے شدہ وقت کے مطابق ہی ہوگی اور امریکا اس حوالے سے کسی غیر یقینی صورتحال کو اہمیت نہیں دے رہا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مقام اور وقت کوئی پیچیدہ یا حساس مسئلہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق امریکا کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں فریق اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا مقام منتخب کیا جائے جو مذاکرات کے لیے موزوں اور قابل قبول ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ، عمان اور خطے کے دیگر کئی ممالک نے بھی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ترکیہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، جس کے بعد دونوں ممالک مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ممکن ہوئے ہیں اور شدید تناؤ کے ماحول میں پاکستان اور ترکیہ نے ایران کو امریکا سے بات چیت پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا کی جانب سے خصوصی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے۔
ان مذاکرات کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے تاکہ خطہ کسی نئی جنگ یا بڑے تصادم سے بچ سکے۔
ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی بنیادی ترجیح کسی ممکنہ تنازع سے بچاؤ اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
ان مذاکرات میں خطے کی چند اہم طاقتوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاکہ بات چیت کو وسیع تر سفارتی حمایت حاصل ہو سکے۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔