شائع 04 فروری 2026 10:12am

کراچی: ایس آئی یو پولیس افسر کے ڈکیتی میں ملوث ہونے کا انکشاف

کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس ایس یو) کا ایک افسر مبینہ طور پر ڈکیتی میں ملوث پایا گیا ہے۔ گرفتار سب انسپکٹر اویس کے خلاف کیس میں اہم شواہد مل گئے ہیں، جبکہ دو پولیس اہلکاروں نے بھی ایس آئی یو کی مبینہ ڈکیت پارٹی کا راز فاش کیا ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق پولیس پارٹی نے تین کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سامان لوٹ کر فرار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایس آئی یو کے خلاف مکمل انکوائری کے بعد رپورٹ اعلیٰ افسران کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 3 جنوری کو ایس آئی یو نے بحریہ ٹاؤن میں منشیات ڈیلر نعمان فاروق عرف ناٹو کے گھر چھاپہ مارا، جس دوران طلائی زیورات، موبائل فونز، نقدی اور دیگر قیمتی سامان لوٹے جانے کا الزام ہے۔ انکوائری میں بتایا گیا کہ پولیس پارٹی تین کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سامان لے کر فرار ہوئی۔

بعد ازاں 5 جنوری کو بلوچ کالونی سے سب انسپکٹر عمران نے نعمان اور اس کے ساتھی آصف کو گرفتار کیا۔ دورانِ تفتیش سب انسپکٹر اویس نے مبینہ طور پر منشیات فروش سے بینک ایپلیکیشن کھلوائی، جس کے بعد رقم کمپیوٹر آپریٹر قاسم کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی، جبکہ اے ٹی ایم کے ذریعے دس لاکھ روپے بھی نکلوائے گئے۔

تین اور پانچ جنوری کے چھاپوں کے بعد دو پولیس اہلکار غیر حاضر رہے۔ کوارٹر گارڈ کیے جانے پر دونوں نے مبینہ وارداتوں کا اعتراف کر لیا۔ انکوائری میں ڈکیتی اور بینک اکاؤنٹ سے رقم منتقلی کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ کمپیوٹر آپریٹر قاسم سرکاری گواہ بن گیا ہے اور اس کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر اویس اس سے قبل بھی گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ اس پر تاجر ذیشان اور منشیات فروش سخی کے گھروں پر چھاپوں کے دوران لوٹ مار کے الزامات بھی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن میں ہونے والی کارروائی اعلیٰ پولیس افسران کے علم میں نہیں تھی۔

سب انسپکٹر اویس کے خلاف قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی جاری ہے۔

Read Comments