امریکی اور چینی صدور میں ٹیلی فونک رابطہ، مستقبل کے مذاکرات پر تبادلہ خیال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات اور مستقبل کے مذاکرات پر بات کی ہے۔
بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر بتایا کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ٹیلی فون پر اچھی گفتگو ہوئی ہے، اس طویل کال کے دوران کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ گفتگو کے دوران تجارت، عسکری امور، ان کے آئندہ اپریل میں چین کے دورے، تائیوان کی صورت حال، روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ، ایران کی موجودہ صورت حال اور چین کی جانب سے امریکا سے تیل اور گیس کی خریداری جیسے معاملات زیر بحث آئے۔
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ گفتگو میں چین کی جانب سے زرعی مصنوعات کی مزید خریداری پر بھی غور کیا گیا، جس میں سویابین کی مقدار موجودہ سیزن کے لیے 20 ملین ٹن تک بڑھانے کی بات کی گئی جب کہ اگلے سیزن کے لیے 25 ملین ٹن خریدنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق گفتگو میں طیاروں کے انجن کی فراہمی اور دیگر مختلف امور پر بھی بات چیت کی گئی، جسے امریکی صدر نے مثبت قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات انتہائی اچھے ہیں اور دونوں رہنما اس بات سے آگاہ ہیں کہ ان تعلقات کو برقرار رکھنا کس قدر اہم ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 3 سال میں میری صدارت کے دوران چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
اس سے قبل چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی۔ چینی سرکاری میڈیا نے گفتگو کے عین مواد یا دورانیے کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی اور نہ ہی وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بارے میں تبصرہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ کال صدر ٹرمپ کے ممکنہ اپریل 2026 میں چین کے دورے سے قبل ہوئی، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور تجارتی و سفارتی مسائل پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری بار نومبر کے آخر میں ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے چین کے ساتھ تعلقات کو ”انتہائی مضبوط“ قرار دیا تھا۔
یہ ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب چند گھنٹے قبل ہی چینی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کی تھی۔ کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے شی جن پنگ کی جانب سے رواں سال کے پہلے نصف میں چین کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے بعد امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا تاہم اکتوبر میں جنوبی کوریا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ایک نازک تجارتی جنگ بندی طے پائی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں قدرے استحکام آیا۔