سری لنکا نے پاکستان سے بھارت میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل کر دی
سری لنکا کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے آئندہ ہفتے کولمبو میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایشلے ڈی سلوا نے جمعہ کو بتایا کہ ہم نے پاکستان کو رپورٹوں کی بنیاد پر بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر میچ نہیں ہوا تو نقصان کے کئی پہلو سامنے آئیں گے، کیونکہ 15 فروری کے میچ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جس میں سکیورٹی انتظامات، ہوٹل کی بکنگ اور ٹکٹوں کی فروخت شامل ہیں۔
ڈی سلوا نے مزید کہا کہ سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کو خط لکھا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور مضبوط کرکٹ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپیل کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس خط کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے سے سری لنکا کی سیاحت پر بھی اثر پڑا ہے اور ہوٹلز کی بکنگ منسوخ ہونے لگیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے وسیع تر مفاد اور دونوں بورڈز کے دیرینہ تعلقات کے پیشِ نظر فیصلہ دوبارہ دیکھا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ سری لنکا وہ پہلی قومی ٹیم تھی جس نے پاکستان کا دورہ کیا تاکہ وہاں بین الاقوامی کرکٹ کو دوبارہ بحال کیا جا سکے، خاص طور پر اس طویل عرصے کے بعد جب پاکستان میں انٹرنیشنل ٹیموں کے دورے معطل تھے۔ یہ معطلی 2009 میں لاہور میں سری لنکا ٹیم کی بس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق دیگر بین الاقوامی کرکٹ بورڈز نے بھی پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت حکومت پاکستان کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف کھیلنے سے روکا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا میں رپورٹس کے مطابق آئی سی سی پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر قائل کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔