میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے: ایرانی وزیرِ خارجہ

یورینیم افزودگی پر پابندی کسی صورت قابلِ قبول نہیں: عباس عراقچی کی عرب میڈیا سے گفتگو
اپ ڈیٹ 08 فروری 2026 10:17am

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا اگلا دور تاحال طے نہیں ہو سکا، تاہم دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت کا سلسلہ جلد از جلد دوبارہ شروع ہونا چاہیے۔

ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اصل اہمیت طریقۂ کار کو نہیں بلکہ ایجنڈا اور فریقین کی سنجیدگی کو حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات صرف اور صرف ایٹمی معاملات تک محدود تھے اور ان میں کسی دوسرے موضوع پر بات نہیں کی گئی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام سے دستبرداری کی کسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے زیرِ اہتمام دوحہ میں غزہ کے معاملے پر منعقدہ فورم میں کئی ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی حال ہی میں عمان میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے بعد فورم میں شریک ہوئے۔

گفتگو کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایک اچھا آغاز ضرور ہیں تاہم اعتماد سازی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ بات چیت بالواسطہ تھی اور اس میں میزائل یا دیگر دفاعی معاملات شامل زیرِ غور نہیں آئے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یورینیم افزودگی پر پابندی ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور یہ عمل جاری رہے گا۔ امریکا بمباری کے ذریعے بھی ایران کی اس صلاحیت کو ختم نہیں کرسکا ہے۔

عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاملہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ تاہم میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

امریکی حملے کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی اڈوں اور ہمسایہ ریاستوں میں فرق کرتا ہے اور پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے اور ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعے کی صبح عمان کی ثالثی میں اس کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوا تھا۔ یہ بات چیت چند گھنٹے جاری رہی، اس دوران دونوں فریقین نے اپنے مؤقف عمان کے وزیرِ خارجہ کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے۔

دونوں ملکوں کے وفود نے مشاورت کے لیے ایک دن کا وقفہ لیا ہے۔ عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دوسرے دور میں بھی عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی ثالث کا کردار ادا کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

Read Comments