شائع 08 فروری 2026 08:20am

اسلام آباد میں خودکش حملہ داعش نے کیا، افغان ماسٹر مائنڈ سمیت تمام سہولت کار گرفتار: محسن نقوی

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی ادارے حملے میں ملوث نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق اس حملے کے چار سہولت کاروں کو پشاور اور نوشہرہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جو کہ افغان شہری ہے۔

خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی ہے جب کہ 169 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی داعش نے افغانستان میں کی تھی اور اس وقت کم از کم 21 دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران ایک پولیس افسر اے ایس آئی نے جامِ شہادت نوش کیا، جس پر انہوں نے شہید اہلکار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

محسن نقوی کے مطابق دہشت گردی کے لیے جہاں سے زیادہ پیسہ ملتا ہے، دہشت گرد اسی کے لیے کام کرتے ہیں، اور بھارت نے مئی کے بعد اپنی سرگرمیوں کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق ترلائی کے واقعے میں ملوث خودکش حملہ آور پہلے افغانستان گیا اور پھر پاکستان واپس آیا۔

عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سانحہ ترلائی کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی عمر تقریباً پچیس سال بتائی جا رہی ہے۔ وہ ڈیڑھ سال قبل اچانک گھر سے غائب ہو گیا تھا اور کبھی کبھار اپنے اہل خانہ سے فون پر بات کر لیا کرتا تھا۔

تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یاسر نوشہرہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسلام آباد پہنچا اور خودکش جیکٹ بھی وہیں سے اپنے ساتھ لایا تھا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور نے دو فروری کو امام بارگاہ کی ریکی کی اور حملے کے روز کھنہ روڈ سے پیدل چلتے ہوئے امام بارگاہ کی جانب گیا۔ وہاں پہنچنے سے قبل وہ ایک قریبی ہوٹل میں کچھ دیر بیٹھا بھی رہا۔

تحقیقات کے مطابق حملہ آور نے چار سے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا، جس میں بال بیرنگ بڑی مقدار میں شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل اس نے راستے میں دو اور امام بارگاہ پر چھ فائر کیے۔

اسلام آباد خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کی نمازِ جنازہ مختلف مقامات پر ادا کی گئی۔ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں گیارہ اور امام بارگاہ جامع صادق جی نائن میں تین شہداء کی نماز جنازہ ادا ہوئی۔

جنازوں کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان جب شہداء کی میتیں لائی گئیں تو لواحقین کی آہیں اور سسکیاں فضا میں گونجتی رہیں۔

امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں نماز جنازہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ حسین مقدسی نے پڑھائی، جبکہ جامع صادق میں آغا شیخ محمد شفا نجفی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔

نماز جنازہ میں وفاقی وزراء، تمام مکاتب فکر کے علماء، سیاسی رہنماؤں، اپوزیشن لیڈر، آئی جی اسلام آباد اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Read Comments