عام دباؤ سمجھ کر نظرانداز کی جانے والی ’پینک اٹیک‘ کی 7 علامات
اکثر لوگ پینک اٹیک کی علامات کو روزمرہ کے دباؤ یا ذہنی تناؤ کا حصہ سمجھ کر ٹال دیتے ہیں، حالانکہ دونوں میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس فرق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ بروقت پہچان اور درست علاج سے حالت کو بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔
پینک اٹیک ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جسم خطرے کے بغیر ہی انتہائی ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان کو شدید خوف، بے قابو ہونے یا جان کو خطرے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جہاں ذہنی دباؤ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، وہیں پینک اٹیک چند لمحوں میں شدت اختیار کر لیتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ تقریباً 35 فیصد افراد زندگی میں کم از کم ایک بار پینک اٹیک کا تجربہ کرتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پینک اٹیکس کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو یہ آگے چل کر پینک ڈس آرڈر کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ذیل میں ایسی سات نمایاں علامات بیان کی جا رہی ہیں جو بظاہر اسٹریس لگتی ہیں، مگر دراصل پینک اٹیک کی نشاندہی ہو سکتی ہیں۔
پینک اٹیک کی 7 اہم علامات
دل کی دھڑکن کا اچانک تیز اور بے قابو ہو جانا
پینک اٹیک کی سب سے عام اور خوفناک علامت دل کی دھڑکن کا ایک دم تیز ہو جانا ہے۔عام اسٹریس میں دل کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور تھوڑی دیر آرام کرنے سے نارمل ہوجاتی ہے، جبکہ پینک اٹیک کے دوران دل چند سیکنڈز میں بہت تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔ یہ دھڑکن اتنی تیز ہوتی ہے کہ اکثر لوگ سینہ تھام لیتے ہیں اور اسے دل کا دورہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ کیفیت عام طور پر چند منٹوں میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔
سانس لینے میں شدید دشواری
ذہنی دباؤ میں سانس بھاری محسوس ہو نا عام ہے، جو گہرے سانس لینے یا کچھ دیر آرام کرنے سے کم ہو جاتی ہے۔ لیکن پینک اٹیک میں اچانک سانس رکنے یا دم گھٹنے کا احساس ہوتا ہے، ایسے محسوس پوتا ہے کہ فضا میں آکسیجن کم ہوگئی ہو۔ یہ کیفیت بغیر کسی واضح وجہ کے ظاہر ہوتی ہے اور چند ہی منٹوں میں خوف اور بے چینی کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
حد سے زیادہ پسینہ آنا اور جسم کا کانپنا
شدید ذہنی دباؤ کے دوران ہاتھوں میں نمی، ہلکا پسینہ یا بازوؤں اور ٹانگوں میں کپکپی محسوس ہونا عام بات ہے، جو عموماً کسی تنازع، پریشانی یا دباؤ والی صورتحال کے بعد خود بخود کم ہو جاتی ہے، مگر پینک اٹیک میں پورا جسم بے قابو ہو کر کانپنے لگتا ہے اور ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت ٹھنڈ ہو، یہاں تک کہ کھڑا رہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت چند منٹوں سے لے کر بیس منٹ تک برقرار رہ سکتی ہے۔
سینے میں درد یا جکڑن
عام دباؤ سے سینے میں بوجھ یا اکڑاؤ ہو سکتا ہے، جو اکثر جسمانی تھکن یا جذباتی دباؤ کا نتیجہ ہوتا ہے اور کھنچاؤ دور کرنے یا گرم پانی سے نہانے سے بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس پینک اٹیک کے دوران سینے میں اچانک تیز اور چبھنے والا درد اٹھتا ہے جو بازو یا جبڑے تک پھیل سکتا ہےاور دل کے مرض جیسا لگتا ہے۔
چکر آنا یا سر ہلکا محسوس ہونا
ذہنی دباؤ میں کمزوری، سر چکرانا یا عدم توازن کا احساس عام طور پر تھکن، پانی کی کمی یا وقت پر غذا نہ لینے سے جڑا ہوتا ہے اور آرام کرنے سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن پینک اٹیک کے دوران اچانک شدید چکر آ سکتے ہیں، جیسے اردگرد کی دنیا گھوم رہی ہو یا انسان خود کو اپنے جسم سے الگ محسوس کرنے لگے۔ اس کے ساتھ انگلیوں یا چہرے میں سنسناہٹ اور بے حسی بھی ہو سکتی ہے۔
متلی یا معدے میں شدید بے چینی
ذہنی دباؤ سے معدہ متاثر ہو سکتا ہے۔ ہلکی سی گھبراہٹ، متلی یا بے آرامی محسوس ہونا ایک عام ردِعمل ہے، جو عموماً ہلکی غذا لینے یا کچھ دیر آرام کرنے سے کم ہو جاتی ہے۔ مگر پینک اٹیک کے دوران متلی، شدید درد یا قے جیسا احساس اچانک اور تیز ہوتا ہے جو لمحوں میں شدت اختیار کر لیتا ہے۔
شدید خوف یا کسی بڑی مصیبت آنے کا احساس
عام ذہنی دباؤ کی فکر حقیقی مسائل جیسے مالی پریشانی یا گھریلو تنازعات سے جڑی ہوتی ہے، لیکن پینک اٹیک میں خوف کی کوئی واضح وجہ نہیں ہوتی اس دوران انسان کو اچانک یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ وہ مرنے والا ہے، ہوش کھو بیٹھے گا یا اپنا کنٹرول کھو دے گا۔ یہ خوف غیر منطقی ہونے کے باوجود انتہائی شدید ہوتا ہے اور تیزی سے بڑھ کر اچانک ہی ختم ہو جاتا ہے، جو اسے عام بے چینی سے بالکل مختلف بنا دیتا ہے۔