ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکا کا بحیرہ عرب میں فوجی طاقت کا مظاہرہ
امریکا نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران بحیرہ عرب میں اپنے فوجی بیڑے کو متحرک کر کے طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق طیارہ بردار جہاز ’’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘، دو فوجی سپلائی بحری جہازوں اور امریکی کوسٹ گارڈ کے دو جہازوں کے ہمراہ اس آپریشن میں شریک رہے، جبکہ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے بھی پروازیں کیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکوم نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ بحیرہ عرب میں اس مشترکہ بحری سفر کو ’’آپریشنل تیاریوں کا مظاہرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے طاقت کے ذریعے امن کے طور پر پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران بھی اب سنجیدگی سے معاہدہ چاہتا ہے اور ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ ایک بڑا بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اب سینٹکوم نے اس بیڑے کے سفر کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سلطنت عمان میں ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات آمنے سامنے ہوئے اور ایرانی حکام کے مطابق یہ بات چیت تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری رہی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے اور جمعے کے مذاکرات ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق کسی مفاہمت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔