لاپتہ افراد کے معاملے پر بات ہو سکتی ہے، دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے: رانا ثناءاللہ
وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، لاپتہ افراد کے معاملے پر بات ہو سکتی ہے مگر دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل صرف ماضی پر افسوس کرنے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ جو ہوچکا ہے اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی شکایات اور دہشت گردی بلوچستان کے دو بڑے چیلنجز ہیں اور انہیں حل کرنے کے طریقہ کار الگ الگ ہیں، ہم دونوں بحرانوں کو ایک ہی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرکے غلطی کر رہے ہیں۔
رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر ان کے اہلِ خانہ کے سامنے قتل کردیا جاتا ہے، بے گناہ مسافروں کا قتل دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا تو اس روز بھارتی میڈیا پر جشن منایا جارہا تھا، دہشت گردی کے ان تمام واقعات میں بھارت ملوث ہے۔
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ الیکشن میں سیاسی انجینئرنگ پر تحفظات کے معاملے پر بات چیت کی گنجائش ہے اور تعلیم، سڑکوں اور ترقی کے بدلے ہتھیار ڈالنے کی بات ہو تو اس پر بھی مذاکرات ممکن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی بقا دہشت گرد عناصر کے خاتمے میں ہے۔ نواز شریف کا واضح مؤقف ہے کہ تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اگر پاکستان مضبوط ہوگا تو بلوچستان بھی مضبوط ہوگا۔