ٹی 20 ورلڈ کپ: آئی سی سی سے ملاقات میں کیا ہوا، پی سی بی نے بنگلہ دیش کو کیا یقین دہانی کرائی ہے؟
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ اس سلسلے میں لاہور میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی اور آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کے درمیان طویل ملاقات ہوئی جو چار گھنٹے تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، پاک بھارت میچ اور خطے کی مجموعی کرکٹ صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی درخواست پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے وزیراعظم سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات جلد متوقع ہے۔
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے، جبکہ پی سی بی نے آئی سی سی کو پاکستان کے مؤقف اور شرائط سے آگاہ کر دیا ہے۔
پی سی بی اور آئی سی سی کی اس ملاقات میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے بنگلہ دیش کو ریونیو اور ایونٹس دلوانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ملاقات کے بعد امین الاسلام واپس بنگلہ دیش روانہ ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی نے مذاکرات میں اس نکتے پر زور دیا کہ بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ حکومت کی ہدایت کے مطابق ہی ہو سکتا ہے۔
محسن نقوی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کیے جانے کے باعث ہونے والے نقصان کی تلافی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر اصولی مؤقف اپنایا اور اسی بنیاد پر بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کیا گیا۔
دوسری جانب اماراتی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا ہے اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی سمیت مختلف کرکٹ بورڈز اس بات کے خواہاں ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہو، کیونکہ اس سے ایونٹ کی اہمیت اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مبینہ طور پر بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ کے باعث اسکواڈ سے ریلیز کر دیا تھا۔
اس کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران اپنے میچز سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی درخواست آئی سی سی سے کی تھی۔
بنگلہ دیش کا مطالبہ تھا کہ اس کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں، تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کر دی اور بعد ازاں بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کر کے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا۔
اس فیصلے کے ردعمل میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی حمایت کرتے ہوئے 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس سے آئی سی سی کو مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہوا۔
بعد میں یکم فروری کو حکومتِ پاکستان نے قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی، لیکن بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔
اب آئی سی سی کی کوششوں، سفارتی رابطوں اور حکومتی مشاورت کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ آیا پاکستان اپنے مؤقف پر قائم رہتا ہے یا حالات میں تبدیلی آتی ہے، اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔