ایپسٹین کا مبینہ ’بچوں کا باڑہ‘؛ نئی دستاویزات میں خوفناک انکشافات
نیویارک کی جیل میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی موت کو کئی سال گزر چکے ہیں، تاہم اب سامنے آنے والی نئی دستاویزات، بیانات اور امریکی محکمہ انصاف کے حالیہ ریکارڈز نے اس بدنام فنانسر کی سوچ اور مبینہ منصوبوں کے بارے میں ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں جاری کردہ تازہ معلومات کے مطابق ایپسٹین نے اپنے قریبی افراد سے کہا تھا کہ وہ نیو میکسیکو میں واقع اپنے وسیع و عریض فارم کو ایک ایسے منصوبے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے جہاں وہ عورتوں کو حاملہ کرے اور اس کے خون سے ایک نام نہاد ’اعلیٰ نسل‘ تیار کی جاسکے۔
بعض لوگوں نے نجی طور پر اس خیال کو ’بیبی رینچ‘ (بچوں کا باڑہ) کا نام دیا۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ منصوبہ عملی طور پر کبھی نافذ ہوا، تاہم سائنس دانوں، مشیروں اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی سرکاری فائلوں سے ایک ایسی تصویر ضرور سامنے آتی ہے جو طاقت، اختیار اور خیالی تصورات کے خطرناک امتزاج کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ایپسٹین کی یہ گفتگو مبینہ طور پر ’ٹرانس ہیومن ازم‘ میں اس کی دلچسپی سے جڑی ہوئی تھی، جو ایک ایسا نظریہ ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرز فکر میں ماضی کے متنازع اور مسترد شدہ نظریات، خاص طور پر یوجینکس، کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
2019 میں گرفتاری سے قبل ایپسٹین نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی تھی اور وہ اکثر اپنے خیالات کو علمی اور فکری انداز میں پیش کرتا تھا۔ تاہم بعد میں اس سے گفتگو کرنے والے کئی افراد نے اعتراف کیا کہ اس وقت انہوں نے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے چیلنج نہیں کیا۔
ایپسٹین نے بااثر علمی حلقوں میں رسائی حاصل کرنے کے لیے بھاری عطیات، تقریبات اور نجی ملاقاتوں کا سہارا لیا۔ اس کے روابط معروف سائنس دانوں اور دانشوروں تک جا پہنچے، جن میں طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ، ماہر نفسیات اسٹیون پنکر اور جینیٹکس کے ماہر جارج ایم چرچ جیسے نام شامل تھے۔
اس نے کانفرنسز کی مالی معاونت کی، نجی عشائیے منعقد کیے اور تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کی، جس کے باعث بعض محققین نے بعد میں تسلیم کیا کہ مالی تعاون نے انہیں اس کے ماضی پر سخت سوال اٹھانے سے روکے رکھا۔
ایپسٹین کے نیو میکسیکو میں واقع زورو رینچ سے متعلق متاثرین کے بیانات نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
بعض افراد کے مطابق ایپسٹین تولید اور انسانی کنٹرول کے موضوع پر محض نظری گفتگو تک محدود نہیں تھا۔ تعلیمی نشستوں میں، جن میں ہارورڈ جیسے ادارے بھی شامل تھے، اس نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ غریب ممالک میں صحت اور غربت کے خاتمے کی کوششیں آبادی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
کچھ شرکاء نے بعد میں بتایا کہ انسانی زندگی کو اعداد و شمار میں تولنے کا یہ انداز انہیں پریشان کن لگا۔
ایک خاتون، جنہوں نے خود کو ناسا کی سائنس دان بتایا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین ایک وقت میں اپنے فارم پر 20 خواتین کو حاملہ دیکھنا چاہتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، اسے ایک ایسے سپرم بینک سے تحریک ملی جو اب بند ہو چکا ہے اور جہاں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ نوبیل انعام یافتہ افراد کے جینز سے انسانیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ایپسٹین نے اپنی موت کے بعد جسم کو محفوظ رکھنے جیسے خیالات پر بھی بات کی۔
ایک سابق ساتھی کے مطابق اس نے کرائیونکس، یعنی انسانی جسم کو منجمد کر کے محفوظ کرنے کے متنازع عمل، پر گفتگو کی اور یہاں تک کہا کہ وہ اپنے جسم کے کچھ حصے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ شائع شدہ فائلوں میں شامل ایک ڈائری نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔
اس ڈائری میں ایک خاتون نے لکھا کہ اس نے کم عمری میں بچے کو جنم دیا اور کچھ عرصے بعد وہ بچہ اس سے لے لیا گیا، جس کی نگرانی مبینہ طور پر ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھیسلین میکسویل کر رہی تھیں۔
اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور بچے کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
زورو رینچ، جو ہزاروں ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، بظاہر ایک نجی تفریحی مقام کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، مگر متاثرین نے بعد میں اسے خوف اور استحصال کی جگہ قرار دیا۔
کئی خواتین نے عدالت میں بتایا کہ انہیں کم عمری میں وہاں لے جایا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں مدد سے دور رکھا گیا۔
گھیسلین میکسویل کو بعد ازاں لڑکیوں کو ورغلانے اور جنسی اسمگلنگ میں مدد دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی، جبکہ بعض گواہوں نے تصدیق کی کہ وہ اہم ادوار میں زورو رینچ پر موجود تھیں۔