شائع 11 فروری 2026 11:56am

اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی نشست سے استعفا 17 ماہ بعد منظور

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے دیا گیا استعفا بالآخر منظور کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے این اے 256 خضدار سے منتخب رکن سردار اختر مینگل کا استعفاقبول کر لیا ہے، جس کے بعد یہ نشست باضابطہ طور پر خالی ہو گئی ہے۔

سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفا 3 ستمبر 2024 کو دیا تھا، تاہم اس کی منظوری تقریباً 17 ماہ بعد عمل میں آئی۔

اپنے استعفے کے حوالے سے انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے انہیں یہ سخت فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو درپیش مسائل اور عوام کی مشکلات کے حل میں وہ اسمبلی کے اندر رہتے ہوئے مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔

میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ وہ ایک حکومت چھوڑ کر دوسری حکومت میں اس امید کے ساتھ آئے تھے کہ بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق وہ اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کر سکے، جس پر انہیں شدید مایوسی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں سیاست کرنے سے بہتر ہے کہ پکوڑوں کی دکان کھول لوں، کیونکہ اسمبلی میں بیٹھ کر عوامی مسائل حل ہوتے نظر نہیں آتے۔

بی این پی مینگل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ ہے کہ ان کے تقریباً 65 ہزار ووٹرز اس فیصلے پر ناراض ہوں گے، تاہم وہ ان سے معافی مانگتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اسمبلی عوام کی آواز نہیں سنتی تو وہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں رہ جاتا۔

سردار اختر مینگل فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 256 خضدار سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے اسمبلی اور وفاقی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا ہو۔ اس سے قبل بھی جون 2020 میں، گزشتہ قومی اسمبلی کے دوران، انہوں نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت بھی سردار اختر مینگل کا مؤقف تھا کہ ان کی جماعت نے ہر موقع پر وفاقی حکومت کا ساتھ دیا، لیکن اس کے بدلے میں بلوچستان اور بی این پی کو کوئی ٹھوس فائدہ نہیں ملا۔

Read Comments