انسان کے صرف پانچ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر 33 حواس ہوتے ہیں: نئی تحقیق
جدید سائنس اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسانی ادراک محض پانچ بنیادی حواس تک محدود نہیں بلکہ سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی حواس کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور یہ حواس 22 سے 33 تک ہوسکتے ہیں۔
لندن یونیورسٹی کے اسکول آف ایڈوانسڈ اسٹڈی کے “سینٹر فار دی اسٹڈی آف دی سینسز“ اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ”کراس ماڈل لیبارٹری“ سے وابستہ ماہرین کے مطابق انسانی دماغ مختلف حسی ذرائع سے ملنے والی معلومات کو یکجا کر کے ایک مربوط تجربہ تشکیل دیتا ہے۔
پروفیسر چارلس اسپینس، جو آکسفورڈ کی کراس موڈل لیبارٹری سے وابستہ ہیں، کے مطابق نیورو سائنس کے کئی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانوں میں 22 سے 33 تک مختلف حسی صلاحیتیں ہو سکتی ہیں۔
ان اضافی حواس میں پروپریوسپشن حس ہمیں دیکھے بغیر اپنے جسم کے اعضا کی پوزیشن کا علم دیتی ہے، ویسٹیبیولر حس توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور کان کے اندرونی نظام سے وابستہ ہے،انٹیروسیپشن جسم کے اندرونی حالات جیسے دل کی دھڑکن یا بھوک کا احساس بتاتی ہے، سینس آف اونرشپ اپنے اعضا کو اپنا سمجھنے کا شعوردیتی ہے جو فالج زدہ مریضوں میں متاثر ہو سکتا ہے اور سینس آف ایجنسی یا حسِ اختیار یہ احساس دیتی ہے کہ حرکت ہم خود کر رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ذائقہ محض زبان پر موجود ذائقے کے خلیات تک محدود نہیں کیونکہ زبان پر موجود ریسیپٹرز صرف پانچ بنیادی ذائقوں مثلاً میٹھا، نمکین، کھٹا، کڑوا اورچٹخارے کا زائقہ جیسے گوشت کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں۔
اس کے برعکس اسٹرابیری، آم یا رسبری جیسے ذائقے دراصل سونگھنے کی حس اورچھو کر محسوس کرنے کی حس کے اشتراک سے محسوس ہوتے ہیں۔
جب ہم کھانا چباتے یا مشروب پیتے ہیں تو خوشبو کے مرکبات منہ سے ناک کے پچھلے حصے تک پہنچتے ہیں، جس سے مکمل ذائقہ تشکیل پاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ذائقے کا بڑا حصہ دراصل سونگھنے کی حس سے وابستہ ہوتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ بصارت تنہا کام نہیں کرتی بلکہ توازن کے نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب ہوائی جہاز اڑان بھرتا ہے تو مسافر کو کیبن کا اگلا حصہ اونچا محسوس ہوتا ہے، حالانکہ دیکھنے کا زاویہ وہی رہتا ہے۔ اس احساس کی وجہ اندرونی کان کا نظام ہے جو جسم کے جھکاؤ کی اطلاع دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسان کا تجربہ ہمیشہ بہت سی حسوں سے تشکیل پاتا ہے۔ ہم نہ تو صرف دیکھتے ہیں، نہ صرف سنتے ہیں اور نہ ہی صرف چکھتے ہیں بلکہ ہمارا دماغ مختلف حسی معلومات کو یکجا کر کے ایک مربوط تجربہ تخلیق کرتا ہے، جس کی بنیاد پر ہم چیزوں کوسمجھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی حواس کی تعداد کے بارے میں کوئی حتمی یا یکساں سائنسی رائے موجود نہیں۔ مختلف تحقیق کار اور مطالعات ’حس‘ کی تعریف کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں، جس کی وجہ سے حواس کی تعداد 10 سے لے کر 30 یا اس سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔ اس لیے 33 حواس کا ذکر ایک حتمی تعداد کے طور پر نہیں بلکہ انسانی حسی نظام کی پیچیدگی اور مختلف طبقات کی سائنسی درجہ بندی کے طور پر لیا گیا ہے۔
تحقیق کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس مطالعے کا اصل مقصد حواس کی گنتی طے کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ انسانی حسی نظام صرف پانچ روایتی حواس تک محدود نہیں بلکہ ایک مربوط، کثیرالجہتی اور پیچیدہ نظام ہے جو ہمارے ماحول کو سمجھنے اور اس کے ساتھ تعامل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔