شائع 11 فروری 2026 10:25pm

بنگلادیش سے دفاعی تعلقات؛ امریکا اور چین کے درمیان سفارتی سطح پر لفظی جنگ

ڈھاکا میں تعینات امریکی سفیر کے مطابق امریکا بنگلا دیش کی نئی حکومت کو چینی دفاعی سازوسامان کے متبادل کے طور پر اپنا اور اتحادی ممالک کے دفاعی نظام فراہم کرنے کی پیشکش کا ارادہ رکھتا ہے۔ چینی سفارت خانے نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے چین اور بنگلادیش کے تعلقات پر امریکی سفیر کے ریمارکس کے پیچھے مذموم مقاصد ہیں۔

بنگلا دیش میں عام انتخابات سے ہی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے چین اور امریکا سفارتی محاذ پر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ڈھاکا میں تعینات امریکی سفیر نے بتایا ہے کہ امریکا بنگلادیش کی نئی حکومت کو چینی دفاعی ساز و سامان کے متبادل کے طور پر امریکا اور اتحادی ممالک کے دفاعی ساز و سامان کی پیشکش کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن کا کہنا تھا کہ امریکا جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر فکرمند ہے اور بنگلا دیشی کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ چین کے ساتھ تعاون میں کیا خطرات ہوسکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق انہوں نے مختصر بتایا کہ امریکا بنگلا دیش کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف آپشنز فراہم کر سکتا ہے جس میں امریکی اور اتحادی ممالک کے دفاعی نظام شامل ہیں۔

برینٹ ٹی کرسٹینسن کا کہنا تھا کہ کئی امریکی کمپنیاں بنگلا دیش میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، تاہم وہ نئی حکومت سے کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کا واضح اشارہ چاہتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تجارتی سفارتکاری امریکا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور امریکا نئی حکومت کے ساتھ مل کر تجارتی، معاشی اور سیکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بنگلا دیشی عوام کی منتخب کردہ کسی بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

رائٹرز سے گفتگو کے دوران امریکی سفیر نے بنگلادیش کے لیے ماضی میں دیے گئے عطیات اور مختلف امدادی پروگراموں کا بھی تذکرہ کیا اور عطیہ دہندگان سے مزید فنڈز دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ چین نے حال ہی میں بنگلا دیش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بنگلا دیش کی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے کی خریداری پر بھی بات چیت جاری ہے جو چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا ملٹی رول طیارہ ہے۔

بنگلادیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق ڈھاکا میں چینی سفارتخانے نے امریکی سفیر کے بیان کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ریمارکس مخصوص مقاصد کے تحت دیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چینی سفارتخانے کے بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے پر چین اپنا واضح اور سنجیدہ مؤقف پہلے ہی پیش کر چکا ہے۔

چینی سفارت خانے نے امریکی سفیر کے بیان کو ’پرانا راگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ چین اور بنگلا دیش کے تعلقات پر انگلی اٹھاتے ہوئے حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ چین اور بنگلا دیش کے تعلقات، اور اسی طرح چین کے دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے روابط، کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا بیرونی دباؤ ان تعلقات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ان تعلقات میں مداخلت یا انہیں سبوتاژ کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی۔

بنگلادیش میں 12 فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں۔ اس بار عوامی لیگ کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے انتخابی منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے اور انتہائی دلچسپ اور کڑا مقابلہ ہونے کی توقع ہے۔

ملک بھر میں 51 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے 1700 سے زائد امیدوار 300 نشستوں کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں جبکہ حالیہ جائزوں اور سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کی زیرِ قیادت اتحاد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

Read Comments