اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی
اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دورۂ واشنگٹن کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور غزہ سے متعلق مجوزہ امن فریم ورک پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق دستاویز پر دستخط کیے، جس کے بعد اسرائیل کی اس فورم میں شمولیت باضابطہ طور پر مؤثر ہوگئی۔
نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ مذاکرات میں غزہ سمیت متعدد امور زیرِ بحث آئیں گے، تاہم گفتگو کا محور ”سب سے بڑھ کر“ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہوں گے۔
واضح رہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کے ابتدائی چارٹر پر دستخط کی تقریب جنوری کے آخر میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں منعقد ہوئی تھی، جس میں 17 ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ تقریب میں لاطینی امریکا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، وسطی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے صدور اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران شریک ہوئے تھے۔
بعد ازاں نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے صدر ٹرمپ کی دعوت قبول کریں گے۔ اس سے قبل انہوں نے غزہ کی ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل، خصوصاً قطر اور ترکی کے کردار سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے دیگر متعدد ممالک کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، جن میں روس، بیلاروس، فرانس، جرمنی، ویتنام، فن لینڈ، یوکرین، آئرلینڈ، یونان اور چین سمیت دیگر شامل ہیں۔ تاہم پولینڈ اور اٹلی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ اس بورڈ میں شامل نہیں ہوں گے۔
وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا یہ دورۂ واشنگٹن ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔