اپ ڈیٹ 12 فروری 2026 01:52pm

بنگلہ دیش میں انتخابات کے ساتھ ہونے والا ’قومی ریفرنڈم‘ کیا ہے؟

بنگلہ دیش میں قومی انتخابات کے ساتھ ساتھ اییک قومی ریفرنڈم کی کرایا جارہا ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ یہ ریفرنڈم ملک کے بنئے ڈھانچے کا فیصلہ کرے گا۔

بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات شیخ حسینہ کی 16 سالہ حکومت کے خاتمے کے تقریباً 19 ماہ بعد ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جولائی 2024 میں طلبہ کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینی پڑی تھی، جس کے بعد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری نگران حکومت قائم کی گئی تھی۔

آج ہونے والے اس ووٹنگ کے عمل کی خاص بات یہ ہے کہ عوام نہ صرف اپنی نئی حکومت کا انتخاب کریں گے بلکہ ایک قومی ریفرنڈم میں بھی حصہ لیں گے جس سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائے گا۔

ڈاکٹر محمد یونس نے انتخابات سے قبل اپنے پیغام میں اس دن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج بنگلہ دیش کے عوام دو ووٹ ڈالیں گے۔ ایک ووٹ نئی حکومت کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا ووٹ ایک قومی میثاق یعنی ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کی منظوری کے لیے ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ منتخب ہونے والی حکومت جلد اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے گی، تاہم ملک کو مستقبل میں آمریت اور بدانتظامی سے بچانے کے لیے اس چارٹر کی منظوری بے حد ضروری ہے۔

عبوری حکومت نے اس چارٹر کے حق میں بھرپور مہم چلائی ہے تاکہ عوام اس اصلاحاتی پیکج کی حمایت کریں۔

جولائی نیشنل چارٹر دراصل ان اصلاحات کا مجموعہ ہے جو جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے مقاصد کو قانونی شکل دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس چارٹر کا مقصد ملک میں گڈ گورننس، جمہوریت اور سماجی انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ دوبارہ کبھی کوئی آمرانہ حکومت قائم نہ ہو سکے۔

اس چارٹر کو ڈاکٹر محمد یونس کے قائم کردہ ’نیشنل کنسنسس کمیشن‘ نے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مشورے سے تیار کیا ہے، تاہم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اس مشاورتی عمل کا حصہ نہیں تھی۔

اس چارٹر کو ڈاکٹر یونس نے وحشت سے تہذیب کی طرف منتقلی کا نام دیا ہے۔

ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر پر عوام سے ایک ہی سوال پوچھا جائے گا جس کے جواب میں انہیں ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا ہوگا۔

اس ریفرنڈم کے ذریعے چار بڑی آئینی تبدیلیوں پر عوام کی رائے مانگی گئی ہے۔

ان تبدیلیوں میں نئے آئینی اداروں کا قیام اور پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا شامل ہے، جس میں ایوانِ بالا (سینیٹ) کی منظوری کے بغیر آئین میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔

اس کے علاوہ اس چارٹر میں وزیراعظم کے لیے مدت کی حد مقرر کرنے اور صدر کے اختیارات میں اضافے جیسی 30 اہم اصلاحات بھی شامل ہیں تاکہ اقتدار کسی ایک ہاتھ میں مرکوز نہ رہے۔

آج کا فیصلہ طے کرے گا کہ بنگلہ دیش کا سیاسی مستقبل کس رخ پر گامزن ہوگا۔

Read Comments