جنسی درندوں کو پہچاننے اور ان سے بچوں کو بچانے کا طریقہ
بچوں کا جنسی استحصال ایک نہایت سنگین جرم ہے جس میں بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بچے کی جسمانی صحت، ذہنی توازن اور شخصیت کی تعمیر گہرے اور دیرپا زخموں کا شکار ہو جاتی ہے، جن میں خوف، اضطراب، شرمندگی، اور تعلقات بنانے میں شدید دقت شامل ہو سکتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے بہت سے واقعات گھروں، رشتہ داروں اور قریبی لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں اور خوف، دباؤ یا شرمندگی کی وجہ سے رپورٹ تک نہیں ہو پاتے۔
حال ہی میں فرانس میں ایک سابق اُستاد پر 89 نوعمر بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات سامنے آئے، ایک ایسا شخص جو دہائیوں تک ”قابلِ احترام“ سمجھا جاتا رہا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خطرہ ہمیشہ انجان افراد سے نہیں ہوتا، زیادہ تر نقصان انہی ہاتھوں سے ہوتا ہے جن پر ہم اعتبار کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری توجہ محض ”شک“ پر نہیں بلکہ گرومنگ کو سمجھنے پر ہونی چاہیے، یعنی وہ نفسیاتی طریقہ جس میں ایک شخص بتدریج بچے اور اُس کے خاندان کا اعتماد حاصل کرکے حدیں عبور کرتا ہے۔
گرومنگ سے کیا مراد ہے؟
گرومنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک بالغ شخص بچے کو جنسی استحصال کے لیے ’تیار‘ کرتا ہے، مگر یہ تیاری بہت نرم اور غیر واضح انداز میں ہوتی ہے۔
آغاز میں سب کچھ بےضرر اور خوش گوار لگتا ہے۔ توجہ دینا، تحفے دینا، تعریف کرنا، یا خاص تعلق قائم کرنا۔
رفتہ رفتہ، یہ تعلق رازوں کے تبادلے میں تبدیل ہو جاتا ہے، ذاتی گفتگووں میں بدل جاتا ہے اور نرمی سے جسمانی یا جذباتی حدود کو کراس کرتا جاتا ہے، یا مزید آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بچے کو ”بتدریج“ ذہنی و جذباتی کنٹرول میں لے کر جنسی استحصال کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
بھارت کی ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر انیتا چندرا کا کہنا ہے کہ ”بدسلوکی کرنے والا شخص پہلے بچے یا اس کے والدین کا اعتماد جیتتا ہے۔ وہ مددگار، مہربان، اور قابلِ بھروسہ بننے کو کوشش کرتا ہے۔ وہ بچے کو خصوصی توجہ، اپنا وقت اور تحفے دیتا ہے، اس طرح وہ اپنے اور بچے کے درمیان گہرا اعتماد یا راز داری پیدا کرتا ہے اور پھر چھوٹی حدود توڑتا ہے، اور آہستہ آہستہ بچے کو اپنی جذباتی گرفت میں لے آتا ہے۔“
یہ عمل بچے کے ذہن کو الجھا دیتا ہے، اسے یہ محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی قریبی تعلق میں ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ خطرے میں ہوتا ہے۔ یہی الجھن اسے خوف، شرمندگی اور مجرم ہونے کے احساس میں مبتلا کر دیتی ہے۔
اسی لیے والدین کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کونسے بچے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں؟
بچوں کے جنسی استحصال کے لیے کی جانے والی گرومنگ عام طور پر ایسے بچوں میں کامیاب ہوتی ہے جو توجہ یا محبت کی کمی محسوس کرتے ہوں، خود اعتمادی یا حمایت سے محروم ہوں اور تنہائی یا خاندانی مسائل کا شکار ہوں۔
ایسے بچے کسی بھی خیرخواہ رویے کو سچی محبت یا دوستی سمجھ لیتے ہیں، جو انہیں زیادہ کمزور بنا دیتا ہے۔
واضح رہے کہ خطرے کی جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ عمل اسکولوں، ٹیوشن سینٹرز، گلی محلوں، مذہبی اداروں یا آن لائن پلیٹ فارمز جیسے گیمز اور سوشل میڈیا پر بھی ہو سکتا ہے۔ ابتدا عام بات چیت سے ہوتی ہے، پھر یہ پرائیویٹ چیٹ، تصویریں یا خفیہ ملاقاتوں میں بدل جاتی ہے۔
وارننگ سائنز کیا ہوسکتے ہیں انہیں کیسے پہچانیں؟
جب کوئی بچہ اچانک خاموش ہوجائے یا خاموش رہنے لگے، خوفزدہ سا نظر آئے یا چڑچڑا ہوجائے یا کسی مخصوص بالغ کے ساتھ غیر معمولی لگاؤ ظاہر کرے، تحفے اور پیسے نظر آئیں یا توجہ کو راز رکھے، آن لائن سرگرمیوں میں خفیہ رویہ اپنائے، اپنی عمر سے زیادہ جنسی باتیں یا علم ظاہر کرے تو یہ محض رویے کی تبدیلی نہیں بلکہ ممکنہ خطرے کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایسا شخص صرف بچے کو نہیں بلکہ پورے خاندان یا برادری کو ”گروم“ کرتا ہے۔ وہ خود کو نیک، مددگار اور قابلِ اعتماد ظاہر کرتا ہے اور گھر یا خاندان کا اعتماد حاصل کرلیتا ہے، لوگ اسے شک سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں، اور یہی اُس کی سب سے بڑی ڈھال بن جاتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں یا انہیں کیا کرنا چاہیے؟
تو جناب اس کے لیے اپنے بچوں سے کھلے دل سے بات کریں تاکہ وہ خوف یا شرم کے بغیر کچھ بھی شیئر کر سکیں۔ انہیں اپنا دوست بنائیں، ڈانٹ ڈپٹ سے بچے معاملات چھپاتے ہیں لہٰذا ان پر اپنا بھرپور اعتماد ظاہر کریں اور ان کی بات سنیں۔
والدین اگر باشعور ہوں تب ہی بچے کو بھی آگاہی دے سکتے ہیں۔ اس لیے خود بھی دنیا اور اپنے ارد گرد پر نظر رکھیں اور بچوں کو بھی جسمانی خودمختاری، محفوظ اور غیر محفوظ چھونے کے فرق کے بارے میں بتائیں۔
مثال کے طور پر، مائیں اپنے بچوں کو ”گُڈ ٹَچ اور بیڈ ٹَچ“ ویڈیوز کے ذریعے غیر محسوس طریقے سے معلومات پہنچا سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اتنا اعتماد بحال کریں کہ انہیں کوئی راز نہ رکھنے کا اصول سکھائیں۔ اور یہ کام بچوں کے ساتھ اعتماد بحال کرنے اور دوستی سے ہی ممکن ہے۔
اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر توجہ دیں، کوشش کریں کہ یہ بات آپ کو معلوم ہو کہ بچے کن لوگوں سے رابطے میں ہیں۔
اگر کوئی بچے کے سلسلے میں کوئی بات بتائے یا شیئر کرے تو فوراً توجہ دیں۔ اگر کوئی اہم معاملہ سامنے آئے تو نہایت حکمتِ عملی سے والدین بچے کو حوصلہ دیں اور متعلقہ اداروں سے مدد حاصل کریں۔
یاد رکھیں، بچوں کو وقت دینا، ان کے ساتھ بات کرنا اور ان کی بات سننا ہی سب سے اہم ہے۔ اکثر بچے سب سے پہلے والدین سے مدد مانگتے ہیں، بس ہمیں ان کی آواز کو پہچاننا ہوتا ہے۔