بنگلہ دیش انتخابات: 300 میں سے 299 حلقوں میں ووٹنگ کیوں؟
بنگلہ دیش میں آج بروز جمعرات قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں 127 ملین سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ ڈالنے کی توقع رکھتے ہیں۔ ملک کے 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے جبکہ ایک حلقے میں ووٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔
ملک بھر کے 42 ہزار سے زائد پولنگ مراکز میں صبح ساڑھے سات بجے پولنگ کا آغاز ہوا جبکہ شام ساڑھے چار بجے تک ووٹنگ کا عمل روک دیا جائے گا۔
ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں ووٹنگ سے قبل بدھ کی رات ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ متعدد نوجوان ووٹرز پہلی بار پرجوش انداز میں ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 300 میں سے 299 ڈائریکٹ انتخابی حلقوں کے لیے مجموعی طور پر 2028 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں 50 سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوار شامل ہیں۔ جبکہ آخری نشست کے لیے انتخابات بعد میں ہوں گے کیونکہ اس حلقے کے امیدوار کا انتقال ہو گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں حکومت بنانے کے لیے کسی پارٹی کو مجموعی طور پر 151 نشستیں جیتنی ضروری ہیں۔ حکام کے مطابق، ووٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی شروع کردی جائے گی۔
یاد رہے کہ جین زی انقلاب کے وقت شیخ حسینہ وزیراعظم تھیں اور بعد ازاں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔