پاک بھارت ٹاکرا: ایشیائی کرکٹ بورڈز کے 5 سربراہان پویلین میں نظر آئیں گے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اہم اور مثبت پیش رفت کرتے ہوئے ایشیا کے پانچ بڑے کرکٹ کھیلنے والی ممالک کے سربراہان کو مدعو کر لیا ہے تاکہ باہمی مکالمے کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام نے مقامی روزنامہ ’پروتھوم آلو‘ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ یہ اہم ملاقات کولمبو میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ کے موقع پر سائیڈ لائنز پر منعقد ہوگی۔
بی سی بی کے صدر کے مطابق اس اجلاس کا بنیادی مقصد بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ہے، جو ورلڈ کپ سے قبل کشیدہ ہو گئے تھے اور جس سے عالمی کرکٹ ماحول متاثر ہوا۔ ان تین ممالک کے علاوہ افغانستان اور سری لنکا بورڈز کے سربراہان بھی میٹنگ میں شریک ہوں گے۔
امین الاسلام نے کہا کہ 15 فروری کو ہونے والے پاک بھارت میچ کے دوران آئی سی سی چاہتا ہے کہ ان پانچ ایشیائی ممالک کے نمائندے ایک ساتھ موجود ہوں، میچ دیکھیں اور بامعنی مذاکرات کریں۔
ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں کرکٹ سفارتکاری کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے میچ کے بائیکاٹ کے اپنے ابتدائی فیصلے پر نظرثانی کی ہے۔
بی سی بی کے صدر کے مطابق پاکستان ابتدا میں میچ کا بائیکاٹ کرنے کے لیے تیار تھا، تاہم انہوں نے ذاتی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے رابطہ کر کے انہیں فیصلے پر نظرثانی کے لیے قائل کیا اور مالی اثرات پر بھی توجہ دلائی۔
اس پیش رفت کو بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور خطے میں کرکٹ کے مفاد کے لیے سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
واجح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلہ عالمی کھیلوں کے سب سے زیادہ منافع بخش مقابلوں میں شمار ہوتا ہے، جس سے تقریباً 250 ملین امریکی ڈالر کے براڈکاسٹ ریونیو حاصل ہوتا ہے۔
امین الاسلام نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ یہ میچ کھیلے، کیونکہ اگر یہ ریونیو آئی سی سی کو نہ ملتا تو اس کے اثرات تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک پر پڑتے۔