معروف نعت خواں تابندہ لاری انتقال کرگئیں
پاکستان کی معروف اور ہر دلعزیز نعت خواں تابندہ لاری خالق حقیقی سے جا ملی ہیں۔ ان کا انتقال کراچی میں ہوا جہاں وہ گزشتہ کچھ عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھیں۔
تابندہ لاری علاج کی غرض سے کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں داخل تھیں جہاں ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکیں اور داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔
ان کے انتقال کی خبر نے نعت خوانی سے لگاؤ رکھنے والے حلقوں اور ان کے عقیدت مندوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔
تابندہ لاری کا شمار پاکستان کی ان ممتاز نعت خواں خواتین میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی خوبصورت آواز اور مخصوص انداز سے حمد و نعت کی محافل میں ایک الگ مقام بنایا۔
انہیں خاص طور پرمذہبی چینلز پر نعتیں، حمد اور منقبت پڑھنے کی وجہ سے ملک گیر شہرت حاصل تھی۔ ان کا کلام پڑھنے کا انداز روایتی جنوبی ایشیائی طرز اور کلاسیکی اردو شاعری کا حسین امتزاج تھا، جس کی وجہ سے انہیں سننے والے وجد میں آجاتے تھے۔
ان کے فنی سفر پر نظر ڈالی جائے تو وہ مشہور نعتیہ پروگراموں میں اکثر نظر آتی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت میں گزارا۔
ان کی نعتوں کا البم ’دردِ رسول‘ بے حد مقبول ہوا جو انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی موجود ہے۔ ان کی مشہور نعتوں میں ’ہم مدینے سے اللہ‘، ’عشقِ احمد چاہیے‘ اور ’میں بھی مدحت کروں عمر بھر آپ کی‘ جیسی تخلیقات شامل ہیں جو ہمیشہ ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
ان کے انتقال سے نعت خوانی کا ایک روشن باب ختم ہوگیا ہے۔