شائع 12 فروری 2026 08:20pm

سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کا متاثرہ سائٹ کا دورہ کرنے کا فیصلہ

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے متاثرہ سائٹ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن 14 فروری کو گل پلازہ کا دورہ کرے گا جب کہ جوڈیشل کمیشن حکومتی اداروں کو تحقیقات کے لیے طلب کرنے سے قبل پوری عمارت کا خود جائزہ لے گا۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن گل پلازہ کی موجودہ صورت حال کا معائنہ کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن جائے وقوعہ پر آتشزدگی کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن، موجود راستے اور دیگر انتظامات کا جائزہ لے گا۔

کمیشن گل پلازہ کا وزٹ کرنے کے بعد متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کرکے طلب کرے گا۔ فائر بریگیڈ، کے ایم سی، ریسکیو ادارے، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کو طلب کیا جائے گا۔

سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ طلب

دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے سانحے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو طلب کرلیا ہے۔

عدالتی کمیشن نے سانحے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو 16 فروری کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن کا کہنا ہے کہ سانحے میں جاں بحق افراد کے ورثا ڈپٹی کمشنر جنوبی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع آفس میں پیش ہوں۔

گل پلازہ آتشزدگی کے دوران جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے بیان ریکارڈ کیے جائیں گے جب کہ کمیشن کی جانب سے اہل خانہ کو گھروں پر طلبی کے نوٹس موصول کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 17 جنوری بروز ہفتے کی رات 10 بج کر 15 منٹ پر کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگی تھی، جس کے نتیجے میں 79 افراد جل کر جاں بحق اور 12 شدید زخمی ہوئے تھے، آگ اس قدر شدید تھی کہ مرنے والوں کی شناخت ڈی این اے سے بھی کرنا مشکل تھا۔

جس کے بعد سندھ حکومت نے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی، جس نے متعدد افراد کے بیانات قلمبند کیے، اس دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں سینئر وزرا پر مشتمل کابینہ کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

سندھ حکومت نے 29 جنوری کو سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کے لیے جوڈیشنل کمیشن بنانے کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھا تھا۔ بعدازاں سندھ حکومت کے خط ملنے کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے 4 فروری کو جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن قائم کیا تھا۔

جوڈیشنل کمیشن سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ سندھ حکومت کو ارسال کرے گا، جس کی روشنی میں اہم شخصیات کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا اور ذمہ داران کا تعین کرے گا۔

Read Comments