اپ ڈیٹ 13 فروری 2026 11:34am

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی اتحاد دو تہائی اکثریت سے کامیاب

بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔ بی این پی اتحاد نے 299 میں سے 212 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ 

غیرسرکاری نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 191 نشستیں جیت چکی، جبکہ ان کے اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔

غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی چیئرمین طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی 70 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن گئی جبکہ 30 نشستوں پر امیدوار کھڑا کرنے والی جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی صرف 5 سیٹیں حاصل کرسکی۔

تاہم بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال حتمی اور سرکاری نتائج جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پارلیمان کی 300ویں نشست پر ووٹنگ منسوخ کردی گئی تھی، کیونکہ اس حلقے کے ایک امیدوار کا حال ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ اس وجہ سے اس مخصوص نشست پر پولنگ کا عمل مکمل نہ ہوسکا۔

رات بھر جاری ووٹوں کی گنتی کے بعد اکثریت حاصل کرتے ہی بی این پی نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور ہدایت کی کہ کوئی فتح ریلی نہ نکالی جائے۔

پارٹی نے اس کے بجائے جمعہ کے روز ملک و قوم کی فلاح کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی، کیونکہ بنگلادیش کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔

بی این پی کے رہنما طارق رحمان، جو وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے لیے تیار ہیں، نے جمہوریت کی بحالی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کی جماعت نے غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد فراہم کرنے، کسی بھی فرد کے لیے وزارتِ عظمیٰ کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور انسدادِ بدعنوانی کے مؤثر اقدامات کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت انتخابات کے نتائج کا احترام کرے گی، چاہے وہ جیسے بھی ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کی جماعت کو شکست ہوتی ہے تو وہ رکاوٹ ڈالنے والی یا محاذ آرائی پر مبنی اپوزیشن کی سیاست میں حصہ نہیں لے گی۔

واضح رہے کہ 300 رکنی قومی اسمبلی کے 299 حلقوں میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا۔ سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 151 نشستیں درکار ہوں گی۔

موجودہ نتائج کے تناظر میں بی این پی سب سے بڑی جماعت ابھر کے سامنے آئی ہے۔

Read Comments