شائع 14 فروری 2026 09:49pm

سانحہ گُل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کا جائے وقوعہ کا دورہ، متاثرہ عمارت کا تفصیلی معائنہ

سانحہ گُل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے متاثرہ عمارت کا دورہ کیا اور موجودہ صورتحال کا معائنہ کیا۔ اس سے قبل جوڈیشل کمیشن نے مختلف محکموں کو نوٹس جاری کیے تھے۔

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے متاثرہ عمارت کادورہ کیا ہے۔

ہفتے کے روز جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے متاثرہ عمارت کا دورہ کیا اور موجودہ صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ، ایس ایس پی، انچارج فائر بریگیڈ، کے ایم سی اور ایس بی سی اے کے عہدیداروں کی جانب سے جسٹس آغا فیصل کو بریفننگ دی گئی۔

جوڈیشل کمیشن نے گُل پلازہ کے اندرونی اور بیرونی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ جوڈیشل کمیشن کے ارکان اور متعلقہ افسران کے درمیان سوال جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے متعلقہ اداروں کے افسران کو گُل پلازہ واقعے سے متعلق تمام تر تفصیلات، شواہد اور بیانات قلم بند کرنے کے حوالے سے نوٹس پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے متعلقہ حکام کو 18 فروری کو کمیشن کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے جس میں فائربریگیڈ، کے ایم سی، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کے افسران شامل ہیں۔

واضح رہے کہ 17 جنوری کی رات کراچی کے مصروف ترین علاقے صدر میں واقع گل پلازہ میں شدید آتش زدگی کے نتیجے میں 79 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ عمارت کے ملبے سے نکالی گئی لاشوں کی شناخت کرنا بھی مشکل تھا۔

اس سانحے کی تحقیقات کے لیے کمشنر کراچی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آنے پر سندھ حکومت نے 29 جنوری کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو جوڈیشنل کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا تھا۔

جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشنل کمیشن سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ سندھ حکومت کو ارسال کرے گا، جس کی روشنی میں اس سانحے کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔

Read Comments