شائع 15 فروری 2026 09:58am

ایپسٹین کا جال: اسٹوڈنٹ ویزے اور فرضی شادیاں، مجبور عورتوں کی قید کی ہولناک کہانی

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے اپنے گرد موجود خواتین کو امریکا میں رکھنے کے لیے اسٹوڈنٹ ویزوں، انگریزی زبان کے کورسز اور مبینہ طور پر جعلی شادیوں کا استعمال کیا۔ فائلوں میں ان کی گرل فرینڈ کارینا شولیاک کی امیگریشن کہانی سمیت کئی دیگر خواتین کے معاملات کی تفصیلات شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 2013 کے اوائل میں جیفری ایپسٹین کی گرل فرینڈ کارینا شولیاک اپنے امریکی ویزے کی حیثیت کے حوالے سے شدید پریشان تھیں۔ اسی سال انہوں نے ایک امریکی شہری سے شادی کرلی جس کے بعد ان کی پریشانیاں ختم ہوگئیں۔

بعد ازاں انہیں گرین کارڈ ملا اور 2018 میں امریکی شہریت بھی حاصل ہوگئی۔ شہریت ملنے کے بعد انہوں نے اپنی شریکِ حیات جینیفر سے طلاق لے لی، جو اس سے قبل کمبل مسک کے ساتھ تعلق میں رہ چکی تھیں، اور ان دونوں کو ایپسٹین نے متعارف کرایا تھا۔

شہریت کے انٹرویو کے روز ایپسٹین کے قریبی امیگریشن وکیل نے پیغام میں لکھا کہ اب جبکہ وہ امریکی بن چکی ہیں تو ان کے لیے مکینیکل بیل، سرخ سفید اور نیلے غبارے اور جھنڈے والی ٹوتھ پک میں ڈیپ فرائیڈ اسنیکرز کے ساتھ بڑی پارٹی ہونی چاہیے۔

فائلوں کے مطابق ایپسٹین نے 2011 میں ایک پیچیدہ عمل کے ذریعے شولیاک کو کولمبیا یونیورسٹی کے ڈینٹل اسکول میں داخل کروایا، جہاں وہ بیلاروس سے ٹرانسفر طالبہ کے طور پر آئیں جبکہ ان کی ڈگری مکمل نہیں ہوئی تھی۔ داخلے کے بعد ان کی اور یونیورسٹی کے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ آفس کے درمیان ہونے والی خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی امیگریشن حیثیت ایک اور رکاوٹ تھی۔

جولائی 2012 میں ڈینٹل اسکول کے ایک عہدیدار نے انہیں لکھا کہ اگر امیگریشن دفتر میں انہیں مشکلات کا سامنا ہوا تو اس پر معذرت، تاہم اس وقت ان کی امیگریشن حیثیت درست معلوم ہوتی ہے۔ یونیورسٹی اور مذکورہ عہدیدار نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے خاموشی سے شولیاک کا اسٹوڈنٹ ویزا بحال کرانے کے لیے اپنے روابط استعمال کیے۔ انہوں نے برطانوی سرمایہ کار ایان آسبورن کو ای میل میں لکھا کہ وہ براہِ راست درخواست نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ شولیاک ان کی فائل کا حصہ بنیں، اور انہیں یاد ہے کہ آسبورن کے پاس واشنگٹن میں امیگریشن کا اچھا وکیل موجود ہے۔

آسبورن نے جواب میں کہا کہ ان کے پاس ایسے شخص کا نمبر ہے جس کے امیگریشن اینڈ نیچرلائزیشن سروس کی اعلیٰ سطح تک روابط ہیں۔ انہوں نے گریگ کریگ کا نام لیا جو اس وقت اسکیڈن آرپس لاء فرم کے پارٹنر اور سابق امریکی صدر براک اوباما کے وائٹ ہاؤس کونسل رہ چکے تھے۔

ای میل میں اُس وقت کے امیگریشن ادارے کے سربراہ علی مایورکاس کا بھی ذکر کیا گیا، جو بعد میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری رہے۔ تاہم پیغامات میں بعد ازاں ان کا دوبارہ ذکر نہیں ملتا اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ انہیں اس معاملے کا علم تھا۔

ای میلز کے بعد اسکیڈن کے وکلا نے ایپسٹین اور آسبورن کے ساتھ کانفرنس کال کی اور ایک امیگریشن فرم کی مدد لی۔ واضح نہیں کہ گریگ کریگ کال میں شامل ہوئے یا نہیں۔ بعد میں اسکیڈن کے ایک وکیل نے مشورہ دیا کہ ایپسٹین خود امیگریشن فرم سے رابطہ کریں یا وہ کسی اور فرم سے رجوع کرسکتے ہیں۔ اسکیڈن نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ ایک باخبر شخص کے مطابق اسکیڈن نے ایپسٹین کی نمائندگی قبول نہیں کی تھی اور انہیں کسی اور فرم کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔

وکلا کی جانب سے دی گئی رائے سادہ نہیں تھی۔ بتایا گیا کہ شولیاک نے اپنے اسٹوڈنٹ ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کیا ہے جس سے بحالی مشکل ہوگئی ہے، اور اگر وہ ملک چھوڑ کر نیا ویزا درخواست بھی دیں تو اس کی منظوری یقینی نہیں۔ ان کا سیاسی پناہ کا کیس بھی زیر التوا تھا جسے وکیل نے عارضی قیام کی نیت سے متصادم قرار دیا تھا۔

اگست 2013 تک ایپسٹین ایک اور امیگریشن وکیل اردا بسکارڈیس سے براہِ راست رابطے میں تھے۔ ایک ای میل میں شادی کے معاملے پر جلد بات کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ ستمبر میں شولیاک نے وکیل کو لکھا کہ وہ اور جین ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

9 اکتوبر 2013 کو شولیاک نے نیویارک میں شادی کرلی۔ شادی کے سرٹیفکیٹ میں شریکِ حیات کا نام حذف کیا گیا تاہم دونوں کا پتہ 301 ایسٹ 66 اسٹریٹ، نیویارک درج تھا، جو فائلوں میں بارہا ایپسٹین سے وابستہ خواتین اور مہمانوں کی رہائش کے طور پر سامنے آیا تھا۔

چند روز بعد شولیاک نے وکیل سے ملاقات کی درخواست کی۔ بعد ازاں دونوں کے مشترکہ بینک اکاؤنٹ کا ریکارڈ بھی سامنے آیا۔ 2014 کے وسط میں شولیاک نے خاندانی بنیاد پر گرین کارڈ کی درخواست دی اور دسمبر میں انٹرویو طے ہوا۔ جنوری 2015 میں انہوں نے ای میل کے ذریعے گرین کارڈ ملنے کی تصدیق کی۔ تین سال بعد وہ امریکی شہریت کے عمل سے گزر رہی تھیں اور مئی میں انہیں شہریت مل گئی۔ اسی سال اکتوبر میں انہوں نے طلاق کی کارروائی شروع کی جو ایک سال سے کم عرصے میں مکمل ہوگئی۔

دستاویزات کے مطابق تقریباً ایک دہائی قبل نومبر 2010 میں شولیاک نے نیویارک کے اسپینش امریکن انسٹی ٹیوٹ میں انگریزی زبان کا کورس شروع کیا۔ ایسے کورسز غیر ملکی خواتین کے لیے قانونی حیثیت حاصل کرنے کا ابتدائی مرحلہ ثابت ہوتے تھے کیونکہ داخلہ ملنے پر اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے درکار کاغذات حاصل ہوجاتے تھے، بشرطیکہ مالی وسائل ثابت کیے جائیں۔ ای میلز اور بینک ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین متعدد خواتین کی فیس ادا کرتے اور کفالت کرتے تھے۔

2017 کی ایک ای میل میں انہوں نے ایک خاتون کے لیے امریکن لینگویج کمیونیکیشن سینٹر سے آئی 20 جاری کروا کر ویزا حاصل کرنے کا کہا، جو روسی تھیں اور پیرس میں مقیم تھیں۔

ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین خواتین کو ٹوفل امتحان (انگلش زبان کے کورسز) کی تیاری کے لیے کتابیں بھی فراہم کرتے تھے۔ 2015 میں ان کے ایک ملازم نے جزیرے کے لیے ٹوفل کی دو دو کتابیں خرید کر فیڈ ایکس (FedEx) کوریئر کے ذریعے بھیجنے کی درخواست کی۔ بعد ازاں پیرس کے اپارٹمنٹ کے لیے 10 کتابوں کی درخواست بھی سامنے آئی۔

ایپسٹین کے قانونی مشیر ڈیرن انڈائک نے ایک خاتون کے لیے ورک ویزا کی درخواست جمع کرائی جس میں ان کی بطور ماڈل کیریئر اور ایپسٹین کی فاؤنڈیشن میں رضاکارانہ خدمات کا حوالہ دیا گیا۔ ایک اور کیس میں بسکارڈیس نے ایک مبینہ انٹیریئر ڈیزائنر کے لیے ورک ویزا کی تفصیلی وضاحت جمع کرائی۔

او-ون ویزا، جو غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے غیر ملکیوں کے لیے مخصوص ہے، ایپسٹین کے حلقے میں عام طور پر استعمال ہوتا رہا۔ مختلف وکلا نے فیشن ماڈلنگ، کمیونیکیشن، پبلک ریلیشنز اور آرٹ کیوریٹنگ میں غیر معمولی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے درخواستیں دائر کیں، تاہم کامیابی کی شرح واضح نہیں۔

ایک سابق اکاؤنٹنٹ کے حلفیہ بیان کے مطابق ایپسٹین نے ماڈلنگ ایجنسی ایم سی 2 ماڈل مینجمنٹ کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی کریڈٹ لائن کی ضمانت دی تھی۔

ایجنسی کے بانی ژاں لک برونیل پر سول مقدمے میں الزام تھا کہ وہ کم عمر لڑکیوں کو امریکا لاکر اپنے دوستوں بشمول ایپسٹین کو فراہم کرتے تھے۔ برونیل نے 2022 میں زیادتی کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے خودکشی کرلی۔

2012 میں ایپسٹین نے تھا ایک نامعلوم خاتون کے اسٹوڈنٹ ویزا سے متعلق ای میل میں پوچھا کہ کیا انہیں ویزا کے ساتھ آئی 20 فارم درکار ہے۔ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلی صبح کی پرواز سے قبل جواب حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی اور بعد میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ خاتون جہاز پر سوار نہیں ہوئیں۔ ایک پیغام میں لکھا گیا کہ مجھے خوشی ہے وہ نہیں گئیں، مجھے خدشہ تھا کہ واپسی پر کچھ غلط نہ ہوجائے۔

Read Comments