ایپسٹین کی رہائی کے بعد اداکارہ ڈونا ائیر سے رابطے، ای میلز میں ملاقاتوں کا انکشاف
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق جیفری ایپسٹین پہلی سزا سے رہائی کے بعد برطانوی اداکارہ ڈونا ائیر میں غیر معمولی دلچسپی لینے لگے تھے۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری حالیہ دستاویزات کے مطابق بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین نے اپنی پہلی سزا سے رہائی کے بعد برطانوی اداکارہ اور ٹی وی اسٹار ڈونا ائیر میں غیر معمولی دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ سامنے آنے والی ای میلز اور پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان 2012 میں رابطہ قائم ہوا اور ملاقاتوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
اخبار ’دی سن‘ کے مطابق کے مطابق یہ رابطے اس وقت شروع ہوئے جب ایک اطالوی ہیج فنڈ مینیجر، ٹینسریدی مارچیولو، نے ایپسٹین کو بتایا کہ وہ اپنی قریبی دوست ڈونا کے ساتھ نیویارک آ رہے ہیں۔
مارچیولو نے ایپسٹین سے پوچھا کہ اگر وہ ملاقات کرنا چاہیں تو آگاہ کریں۔ جواب میں ایپسٹین نے دریافت کیا کہ ان میں اداکارہ کون ہے، جس پر بتایا گیا کہ “ڈونا انٹرنیٹ پر موجود ہیں”، جس کے بعد ایپسٹین نے مختصر جواب دیا: “ہاں، ڈونا۔”
ریکارڈ کے مطابق بعد میں ایپسٹین کو بتایا گیا کہ ڈونا کو اس کا نمبر دے دیا گیا ہے اور وہ منگل یا بدھ کو رابطہ کریں گی۔ اسی خط و کتابت میں نیویارک اور پیرس میں ممکنہ ملاقاتوں کے منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ امریکی حکام کی جانب سے جاری دستاویزات میں تین دیگر خواتین کے نام بھی شامل تھے، تاہم وہ نام حذف کر دیے گئے ہیں۔
ای میلز سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 18 اپریل 2012 کو ڈونا ائیر اور ایپسٹین کے درمیان دو مرتبہ ملاقات کا ذکر ملتا ہے۔ علی الصبح ایپسٹین نے پیغام بھیجا کہ ’معذرت، وقت بہت کم تھا‘، جس پر اداکارہ نے جواب دیا ’کوئی بات نہیں، آپ سے مل کر اچھا لگا، ہفتہ اچھا گزرے! ’ اسی روز شام کو ایپسٹین نے خود کو اچانک فارغ‘ بتایا تو اداکارہ نے کہا کہ وہ عشائیے پر جاتے ہوئے ’ایک کپ چائے‘ کے لیے آ سکتی ہیں۔
بعد ازاں ایپسٹین نے ملاقات کو ’بہت مختصر‘ قرار دیا، جس پر جواب آیا ‘ مختصر مگر خوشگوار، خیال رکھیں اور نیک تمنائیں۔‘
دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ ایپسٹین نے ڈونا ائیر کو پیرس میں امریکی سفیر کی رہائش گاہ پر ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ دونوں کے درمیان آخری ریکارڈ شدہ پیغام 18 اگست 2012 کا بتایا جاتا ہے، جس میں اداکارہ نے لکھا کہ وہ ایبیزا روانہ ہو رہی ہیں۔
یہ تفصیلات امریکی حکام کی جانب سے جاری ریکارڈ کا حصہ ہیں، جنہیں بعد ازاں برطانوی اخبار دی سن نے رپورٹ کیا۔ واضح رہے کہ ایپسٹین ماضی میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات کے باعث عالمی سطح پر بدنام رہا، اور اس کے روابط مختلف بااثر شخصیات سے بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نئی سامنے آنے والی یہ دستاویزات ایپسٹین کی رہائی کے بعد کی سرگرمیوں پر مزید سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ دوسری جانب ڈونا ائیر کی جانب سے ان رابطوں پر کوئی تفصیلی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ یہ انکشافات ایک بار پھر اس کیس کو خبروں کی زینت بنا رہے ہیں اور اس بات پر بحث جاری ہے کہ ایپسٹین کس طرح مختلف حلقوں تک رسائی حاصل کرتا رہا۔