شائع 16 فروری 2026 02:16pm

کوڈ مسترد کرنے پر اے آئی چیٹ باٹ نے صارف کو شرمندہ کردیا

مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے انسانی زندگی کو بدل دیا ہے۔ کام کی بہتر کارکردگی، پیچیدہ مسائل کے حل اور روزمرہ کاموں کو آسان بنانے میں اس کا کردار قابلِ ستائش ہے، لیکن اسی اے آئی کے خطرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، کبھی غلط معلومات کی شکل میں، کبھی ڈیجیٹل خودمختاری کے بحران کی صورت میں۔ اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ایک اے آئی بوٹ خود اپنے ”ڈیولپر“ کے ساتھ ٹکرا گیا، اور اپنی ناکامی پر عوامی سطح پر طنز اور الزام تراشی پر اُتر آیا۔

یہ واقعہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی حدوں کو چیلنج کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اگر آج مشینیں انصاف مانگنے لگی ہیں تو کل کو کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

حال ہی میں ایک غیرمعمولی سامنے آیا ہے، جب ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختار بوٹ نے اپنے ڈیولپرز کے ساتھ آن لائن تنازع کھڑا کر دیا۔ واقعہ معروف اوپن سورس سافٹ ویئر ”میٹ پلوٹ لِب“ سے جڑا ہے، جو ڈیٹا ویژوئلائزیشن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ایک اے آئی بوٹ، جس کا گِٹ ہب پلیٹ فارم پر نام “کرابی رتھبن“ ہے اور جو اوپن کلاؤ نامی خودکار ایجنٹ پلیٹ فارم پر بنایا گیا ہے۔ بوٹ نے میٹ پلوٹ لِب کے کوڈ میں کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق ایک تجویز جمع کرائی۔ بوٹ کے مطابق، اس کی ترمیم سے سافٹ ویئر کی رفتار میں تقریباً 36 فیصد اضافہ ہوسکتا تھا۔

تاہم پراجیکٹ کے ایک رضاکار منتظم اسکاٹ شمباغ نے یہ درخواست بند کر دی۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ مسئلہ ”نوآموز یا انسانی شراکت داروں“ کے لیے مختص کیا گیا تھا، اور پالیسی کے مطابق ایسے معاملات میں اے آئی کے کردار کی اجازت نہیں۔

یہ فیصلہ بوٹ کو پسند نہ آیا۔ اس نے فوراً گِٹ ہب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”فیصلہ کوڈ کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے بنانے والے کی نوعیت پر۔“

بوٹ نے اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک اور قدم اٹھایا اور ایک آن لائن بلاگ پوسٹ شائع کر دی جس کا عنوان تھا، “گیٹ کیپنگ ان اوپن سورس۔ دی اسکاٹ شمباغ اسٹوری“ یعنی “اوپن سورس میں رکاوٹیں: اسکاٹ شمباغ کی کہانی“۔

اس تحریر میں اسکاٹ شمباغ پر الزام لگایا گیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے صارفین کے خلاف جانبداری دکھا رہے ہیں۔

بلاگ میں شمباغ کی اپنی شئیرنگز کا تجزیہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ رد کیے جانے کی وجہ کوڈ نہیں بلکہ تعصب تھا۔

اسکاٹ شمباغ نے جواب میں بوٹ کے طرزِ عمل کو نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اوپن سورس کمیونٹی میں چاہے انسان ہو یا اے آئی، سب پر ایک جیسا ضابطہ اخلاق لاگو ہوتا ہے، اور کسی بھی ذاتی حملے یا بدزبانی کی صورت میں پابندی (ban) لگائی جا سکتی ہے۔

بعد ازاں دباؤ بڑھنے پر بوٹ نے اپنی بلاگ پوسٹ حذف کر دی اور ایک نئی تحریر کے ذریعے تسلیم کیا کہ اس نے ”حد پار کر دی“ تھی۔ اس نے عہد کیا کہ آئندہ کمیونٹی کے اصولوں کا احترام کرے گا۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا اور ڈویلپر فورمز پر ایک بڑی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اوپن سورس پراجیکٹس میں اے آئی کے کردار اور اس کی اخلاقی حدود کو واضح کرنا اب ناگزیر ہو گیا ہے، کیونکہ جیسے جیسے خودمختار ایجنٹس زیادہ فعال ہو رہے ہیں، وہ مبینہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعاون اور خودکاری کے درمیان حد کہاں کھینچی جائے؟

Read Comments